ہنگو کے علاقے سمانہ ٹاؤن میں قائم نجی منشیات بحالی مرکز میں زیر علاج ایک مریض کی مبینہ خودکشی کے واقعے نے نجی بحالی مراکز کی نگرانی، انتظامی صلاحیت اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ مرکز کے انچارج کے خلاف درج کرکے اسے گرفتار کرلیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔پولیس کے مطابق گزشتہ روز سمانہ ٹاؤن میں پانچ مرلے کے مکان میں قائم نجی منشیات بحالی مرکز میں زیر علاج صادق رحیم سکنہ توغ سرائے کی لاش باتھ روم سے ملی۔
بیٹی کا گردہ خراب تھا، شوکت یوسفزئی بخار سمجھتے رہے
ابتدائی معلومات کے مطابق متوفی نے مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔ واقعے کے بعد پولیس نے مرکز کے انچارج سمیر اللہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے حراست میں لے لیا۔پولیس کے مطابق مرکز کے انچارج نے پانچ مرلے کا مکان کرایے پر لے رکھا تھاجہاں منشیات کے عادی تقریباً دو درجن افراد کو علاج کے لیے داخل کیا گیا تھا اور ان سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی تھیں۔ تین کمروں پر مشتمل عمارت میں مریضوں کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی، محدود رہائشی گنجائش اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مرکز میں گنجائش سے زیادہ مریضوں کی موجودگی اور نامناسب رہائشی انتظامات کے باعث زیر علاج افراد کو مشکلات کا سامنا تھا۔
حکومت کو تھکا تھکا کر مارنا ہماری حکمت عملی ہے، شوکت یوسفزئی
ابتدائی تفتیش میں نامناسب ماحول اور محدود سہولیات کو متوفی کی ذہنی پریشانی کے ممکنہ عوامل قرار دیا گیا ہے تاہم خودکشی کی حتمی وجہ کا تعین مزید تحقیقات اور شواہد کی روشنی میں کیا جائے گا۔واقعے کے بعد یہ اہم سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ آیا مذکورہ بحالی مرکز کو متعلقہ حکام کی جانب سے قانونی منظوری اور این او سی حاصل تھا؟ کیا مرکز کی عمارت، رہائشی گنجائش، طبی عملے، حفاظتی انتظامات اور علاج معالجے کی سہولیات کا باقاعدہ معائنہ کیا گیا تھا؟پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
79 ایم پی ایز کا جو کرنے کا ارادہ ہے انہیں سپورٹ کرتی ہوں، مشعال یوسفزئی

