قبائلی ضلع اورکزئی کی وسطی تحصیل کے علاقے حسن زئی درہ میں مقتولین کے لواحقین اور قبائلی عمائدین نے پولیس مبینہ مقابلے کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں نوجوان عام شہری اور محنت کش مزدور تھے جنہیں مبینہ طور پر پولیس نے فائرنگ کرکے قتل کیا ۔پولیس نے گزشتہ روز حسن زئی درہ میں کارروائی کے دوران دو دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایس ایچ او سمیت دو اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے
مردان میں 400 کلو مضر صحت قیمہ اور 500 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف
تاہم مقتولین کے لواحقین کے متضاد مؤقف نے کارروائی کی نوعیت اور حالات کے حوالے سے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ضلع خیبر کے علاقے باڑہ شلوبرخیل سے تعلق رکھنے والے مقتولین کے رشتہ داروں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال مشتی میلہ میں موجود دونوں لاشیں وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے کہاکہ محمد حسین اور عنایت نامی دونوں نوجوان روزگار کی غرض سے موٹرسائیکل پر اورکزئی آرہے تھے کہ راستے میں مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے۔احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما خان ولی آفریدی نے مبینہ پولیس مقابلے کو غنڈہ گردی قرار دیا اور پولیس پر قتل اور بھتہ خوری جیسے سنگین الزامات عائد کیے۔
ایرانی حملوں سے تباہ ہونیوالی امریکی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری
تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آسکی۔دوسری جانب ڈی پی او اورکزئی شوکت علی نے کارروائی کے بعد دونوں ہلاک ہونے والوں کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔ تاہم مقتولین کے لواحقین اور قبائلی عمائدین نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واقعہ کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، ذمہ دار اہلکاروں کے تعین اور حقائق منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو مقتولین کی لاشیں گورنر ہاؤس کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا جائے گا۔احتجاج کے بعد پولیس کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

