پاکستان نے تائیوان کی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے چین کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں تائیوان کی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے، جس سے ایشیا میں ایک نئی تقسیم پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہوابازی کا شعبہ ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت صرف چین کو اجازت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف چینی فضائی کمپنیوں کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
نیتن یاہو الیکشن سے قبل ایران پر حملے کیلیے بے چین، ٹرمپ نے روک دیا
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس پابندی کے باعث تائیوانی فضائی کمپنیوں کو اپنے بعض فضائی راستوں میں تبدیلی کرنا پڑی ہے۔بلومبرگ نے فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ چائنا ایئر لائنز لمیٹڈ اور ایوا ایئر ویز کارپوریشن کے طیارے 25 اکتوبر کی صبح سے پاکستان کی فضائی حدود سے نہیں گزرے۔رپورٹ کے مطابق اتوار سے ایشیا اور یورپ کے درمیان ان دونوں فضائی کمپنیوں کی کم از کم 12 پروازوں نے پاکستان کے بجائے روسی فضائی حدود استعمال کی ہیں۔پاکستان متعدد مواقع پر تائیوان کے معاملے پر بیجنگ کے مقف کی حمایت کر چکا ہے اور عالمی اداروں، بشمول عالمی ادار صحت(ڈبلیو ایچ او)میں تائیوان کی شرکت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔پاکستان اور تائیوانی حکومت کے درمیان1951 سے سرکاری تعلقات منقطع ہیں۔رپورٹ کے مطابق چینی اور تائیوانی وزرائے خارجہ نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

