چین کے ضلع تاشقرغان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ہنزہ پہنچ گیا۔ دورے کا مقصد سیاحت، تجارت اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اور سرحد پار اقتصادی سرگرمیوں سمیت عوامی روابط کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔گوادر پرو کے مطابق وفد کا دورہ چار روز پر مشتمل ہے جس کے دوران تین روز ہنزہ اور ایک روز گلگت میں قیام کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر ہنزہ کے مطابق ہنزہ اور تاشقرغان کے درمیان جڑواں شہروں کا معاہدہ 2023 میں طے پایا تھا۔ موجودہ دورے کا مقصد اس معاہدے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے دونوں خطوں کے درمیان عملی تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔چینی وفد کا پاکستان اور چین کے درمیان خنجراب سرحد پر ضلعی انتظامیہ ہنزہ، ہنزہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، کے وی او اور دیگر مقامی حکام کے نمائندوں نے پرتپاک استقبال کیا۔
چین نے ایندھن کی برآمدات روک دیں، عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئیں
چیمبر کے قائم مقام صدر اور بانی اراکین نے بھی وفد کا خیرمقدم کیا اور ادارہ جاتی روابط اور کاروباری تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔رپورٹ کے مطابق وفد میں ضلع تاشقرغان کی حکومت کے وہ حکام شامل ہیں جو انتظامی امور، تجارت، صنعت، سیاحت اور خارجہ امور کے شعبوں کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے علاوہ سیاحت، ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس کے شعبوں سے وابستہ کمپنیوں کے نمائندے بھی وفد کا حصہ ہیں، جن میں سنکیانگ باتئے انٹرنیشنل ٹریول ایجنسی، سنکیانگ گوئی ہے ٹیکنالوجی گروپ اور سنکیانگ لوآن انٹرنیشنل فریٹ کمپنی شامل ہیں۔
چینی تعلیمی ادارہ برطانوی یونیورسٹیوں کی جاسوسی کرنے لگا
نیتن یاہو الیکشن سے قبل ایران پر حملے کیلیے بے چین، ٹرمپ نے روک دیا

