امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری مشکل انتخابی صورت حال کے پیش نظر ممکنہ نتائج کو مشروط طور پر قبول کرلینے کا عندیہ دیدیا تاہم انہوں نے انتخابات کے دیانتداری سے منعقد کیے جانے کی شرط عائدکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی تشویش کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ ری پبلکن پارٹی کو انتخابات میں نقصان کا سامنا کرنا پڑا تو وسط مدتی انتخابات کے نتائج کو چیلنج کر سکتے ہیں صدر ٹرمپ انتخابی مہم کے سلسلے میں ٹیکساس جاتے ہوئے بات کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ری پبلکنز نے انتخابی نتیجے میں نقصان کا سامنا کیا تو وہ نتائج کو چیلنج کرسکتے ہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس جیت گئے تو وہ ان کے ساتھ بھی کام کر لیں گے تاہم انہوں نے باور کرایا صدر کو قانون سازی پر ایک مضبوط ویٹو کا اختیار ہوتا ہے. ٹرمپ کی یہ گفتگو 3 نومبر کو ہونے والے متوقع انتخابات سے محض پانچ دن پہلے آئے ہیں وسط مدتی انتخابات میں یہ امریکی ووٹر فیصلہ کریں گے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا
آئندہ انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ
خیال رہے ایوان نمائندگان کی 435 نشستوں جبکہ سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 گورنروں کا انتخاب کیا جانا ہے اس لیے وسط مدتی انتخابات کو صدر ٹرمپ انتظامیہ کا ایک بڑا ٹیسٹ قرار دیا جارہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ 2020 کے صدارتی انتخاب میں اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے انکاری ہو گئے تھے اور انہوں نے کسی واضح ثبوت کے بغیر ہی الزام لگایا تھا کہ صدارتی انتخاب میں ان کے خلاف فراڈ کیا گیا ہے اگر اب کی بار بھی ٹرمپ کی مرضی کے نتائج نہ آسکے تو ان کے پاس ویٹو کا اختیار تو رہے گا مگر وہ کانگریس کے دبا میں رہیں گے انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کے حامیوں نے 6 جنوری 2021 کوکیپٹل ہل پر چڑھائی کر دی تھی۔دوسری جانب امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدرٹرمپ کادیانت داریسے انتخابات میں معیار سب ہی جانتے ہیں ان کے نزدیک حامیوں کی جیت ہی شفاف انتخابات ہیںانہوں نے کہاکہ ٹرمپ ماضی میں نتائج کو مستردکرکے بغیرکسی ثبوت کے نتائج تسلیم کرنے سے انکاری ہوگئے تھے ان کے مطابق 2020کے ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں اس وقت کے ٹرمپ زیادہ جارحانہ رویہ اپناسکتے ہیں۔مبصرین کے مطابق وسط مدتی انتخابات کے نتائج ریپبلکن اور صدرٹرمپ کی مرضی کے مطابق آنا ناممکن نظرآرہا ہے
یوگنڈا میں 38افراد کو قتل کرکے لاشیں کھانے والا انسان گرفتار
اب تک کے عوامی جائزوں کے مطابق صدرٹرمپ اور ریپبلکن کی قبولیت کی شرح 32فیصد کے ساتھ ملکی تاریخ میں کم ترین سطح پر ہے جوکہ پچھلے80سالوں سے ریپبلکن پارٹی اور کسی موجودہ صدر کی وسط مدتی انتخابات میں کم ترین شرح مقبولیت ہے جس کی وجہ مہنگائیایران جنگوعدوں کوپورا نہ کرنابیروزگاری میں اضافہہاسنگ سمیت ملکی مسائل پر عدم توجہ اور صدرکے ارب پتی دوستوں کو معاشی فوائدپہنچانے کے الزامات کو قراردیا جارہا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ریپبلکن سینیٹ کی35نشستوں اور36ریاستوں میں گورنروں کے انتخابات کا بڑا حصہ کھوسکتے ہیں اسی طرح ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی اکثریت واضح نظرآرہی ہے ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئینی طورپر صدرکو وٹیو کو اختیار حاصل ہے تاہم اسی آئین میں کانگریس کے پاس پاور موجود ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں صدرکے فیصلے پرووٹنگ کروا کراسے ردکرسکے۔
نیتن یاہو الیکشن سے قبل ایران پر حملے کیلیے بے چین، ٹرمپ نے روک دیا
ماریہ ماچاڈو نے اپنا امن نوبل انعام ٹرمپ کو دے دیا / Machado Nobel Prize Trump

