Skip to main contentSkip to footer

تجاوزات آپریشن، 1998 سے پہلے تعمیر مکانات مسمار نہ کرنے کا فیصلہ

تجاوزات آپریشن، 1998 سے پہلے تعمیر مکانات مسمار نہ کرنے کا فیصلہ

پشاور میں رنگ روڈ اور ملحقہ علاقوں میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران 1998 سے قبل تعمیر کیے گئے مکانات اور عمارتوں کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق ایسے مکانات کو فوری طور پر مسمار نہ کرنے اور ان کی تعمیر کی تاریخ سمیت متعلقہ حقائق کی جانچ پڑتال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ڈی اے کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق ایسے مکانات کی ملکیت مالکان کے پاس برقرار رہ سکتی ہے، تاہم ایسی زمین پر مالکان کو تعمیرات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر حکومت مستقبل میں سڑک کی توسیع کے لیے اس زمین کو استعمال کرتی ہے تو متعلقہ مالکان کو اس وقت کے مروجہ نرخوں کے مطابق معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی اے نے پشاور کے رنگ روڈ اور دیگر اہم مقامات پر تجاوزات کے خلاف کارروائی تیز کر رکھی ہے۔ 19 اکتوبر 2026 کو شروع ہونے والے آپریشن کے دوران گڑھی قمر دین کے علاقے میں متعدد دکانیں اور دیگر تعمیرات بھاری مشینری کی مدد سے گرائی گئیں۔

آج سے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس کا اجرا بند کر دیا جائے گا

1998 سے پہلے تعمیر کیے گئے مکانات کے بارے میں حقائق کی تصدیق کی جائے گی۔ پی ڈی اے کے ریکارڈ میں بعض مکانات کی درست حدبندی نہ ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جس کے باعث یہ معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ کون سا حصہ سرکاری حدود میں آتا ہے اور کون سا نجی ملکیت میں ہے۔ دستاویزات کے مطابق تجاوزات کے خلاف آپریشن سے پہلے پی ڈی اے نے سروے کیے تھے اور متاثرہ مقامات پر دیواروں اور دیگر تعمیرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ تاہم بعض مکانات کے حصے انسانی غلطی کے باعث مسمار ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں پرانے مکانات کی تعمیر کی تاریخ، ملکیتی دستاویزات، سروے ریکارڈ اور زمین کی حدبندی کی دوبارہ جانچ اہم ہوگی تاکہ قانونی ملکیت اور تجاوزات کے درمیان فرق واضح کیا جا سکے، ضلعی انتظامیہ کے مطابق رنگ روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کا مقصد سڑکوں کی مقررہ حدود بحال کرنا، ٹریفک کی روانی بہتر بنانا اور سرکاری زمین واگزار کرانا ہے۔

ایران جنگ ٹرمپ کیلئے ڈراونا خواب بن گئی

 

گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام تیار

اگلی پوسٹ
پشاور میں ٹریفک قوانین خلاف ورزی پر سخت جرمانوں کا نظام متعارف
پچھلی پوسٹ
خیبرپختونخوا کے12 اضلاع میں دہشتگردوں کی 201 تشکیلیں موجود ہیں، راناثنااللہ