Skip to main contentSkip to footer

پاکستان کا دہشت گردوں کیلئے بھارت کی بڑھتی حمایت پر اظہارِ تشویش

پاکستان کا دہشت گردوں کیلئے بھارت کی بڑھتی حمایت پر اظہارِ تشویش

پاکستان نے ملک میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے لیے بھارت کی جانب سے مبینہ طور پر بڑھتی ہوئی حمایت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔لندن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس)کے زیرِ اہتمام جنوبی ایشیا میں جوہری ڈیٹرنس اور اسٹریٹجک استحکام سے متعلق 11ویں ٹریک 1.5 ورکشاپ سے خطاب میں پاکستان کی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر اور اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی)کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر)مظہر جمیل نے پاکستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے لیے بھارت کی مبینہ حمایت پر تشویش کا اظہار کیا۔

قیامت کی پیش گوئی کرنیوالا مذہبی مبلغ 190 بچوں کے قتل کا مجرم قرار

مظہر جمیل نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے مذاکرات اور موثر بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر زور دیا۔ انہوں نے بھارت کی جوہری پالیسی پر بھی سوالات اٹھائے اور خطے کے حل طلب تنازعات کی نشاندہی کی۔سوال و جواب کے سیشن کے دوران افغانستان کے راستے تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کو بھارت کی جانب سے مبینہ حمایت کے سوال پر مظہر جمیل نے کہا کہ بھارت نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی حمایت میں اضافہ کیا ہے۔ان کے مطابق پاکستان کے پاس بھارت کی مبینہ بڑھتی ہوئی مداخلت کے شواہد موجود ہیں اور اسلام آباد نے اپنے خدشات بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بھی شیئر کیے ہیں، جن میں امریکی حکام اور افغانستان میں بین الاقوامی فوجی موجودگی کے دوران انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (آئی ایس اے ایف)سے وابستہ نمائندے شامل تھے۔مظہر جمیل نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں کو پاکستان کی سرحد کے قریب دہشت گرد سرگرمیوں میں معاونت کے لیے استعمال کیا گیا، جس میں مبینہ طور پر مالی وسائل اور اسلحے کی فراہمی بھی شامل تھی۔پاکستانی جوہری مشیر نے 1971 کی جنگ، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا

مٹھاس سے فالج ،دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ

اور سری لنکا میں لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم کی مثالیں بھی پیش کیں۔ ان کے مطابق یہ واقعات مسلح گروہوں کے ساتھ بھارت کے مبینہ روابط سے متعلق ان کے مقف کی تاریخی مثالیں ہیں۔دہشت گرد گروہوں سے متعلق الزامات کے علاوہ مظہر جمیل نے بھارت کی جوہری پالیسی اور جنوبی ایشیا میں اس کے اسٹریٹجک استحکام پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کیا۔انہوں نے بھارت کی اعلان کردہ جوہری پالیسی، جس کے تحت پہلے جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا مقف اختیار کیا گیا ہے، پر سوالات اٹھائے اور 2008 میں بھارت کو دی گئی جوہری تجارت سے متعلق استثنی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔مظہر جمیل نے تنازع کشمیر کو بھی خطے میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا اور دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان مذاکرات اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مضبوط طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا۔مظہر جمیل نے 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کے فیصلے پر تنقید کی اور اسے خطے کے لیے تشویش کا ایک اور سبب قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی تعاون کا بھی دفاع کیا اور اسے دفاعی نوعیت کا قرار دیا۔

یتیم وسیم عباس کا قاتل توقیر نذیر پولیس مقابلے میں ہلاک

گورنر راج اور ایمرجنسی صوبے کی معدنیات پر کنٹرول کیلئے ہے، فضل الرحمان

پچھلی پوسٹ
قیامت کی پیش گوئی کرنیوالا مذہبی مبلغ 190 بچوں کے قتل کا مجرم قرار