Skip to main contentSkip to footer

روزانہ قیلولہ کرنے کی عادت سے دماغ پر مرتب ہونیوالے اثرات

روزانہ قیلولہ کرنے کی عادت سے دماغ پر مرتب ہونیوالے اثرات

دوپہر کی نیند یا قیلولہ دن بھر کی توانائی کو بڑھانے کا ایک اچھا ذریعہ ہوتا ہے مگر بہت زیادہ وقت تک سونا دماغی صحت کی کسی مسئلے کی نشانی ہوسکتا ہے۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔جان ہوپکنز بلومبرگ اسکولز ڈیپارٹمنٹل آف مینٹل ہیلتھ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ جو معمر افراد روزانہ یا اکثر قیلولہ کرتے ہیں، ان میں دماغی تنزلی کا خطرہ بڑھانے والے مرض ڈیمینشیا کا خطرہ 48 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اس تحقیق میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے 9 ہزار کے قریب افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ان افراد کی صحت کا جائزہ 10 سال تک لیا گیا۔تحقیق کے مطابق کسی ارادے کے بغیر قیلولہ کرنے یا دوپہر کو 30 منٹ تک سونے سے بھی ڈیمینشیا کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔محققین کا ماننا ہے کہ قیلولے اور ڈیمینشیا کے درمیان تعلق موجود ہے۔

چاند سکڑنے لگا، 10 ہزار سے زیادہ نئی فالٹ لائنز کی نشاندہی

یعنی ان کے خیال میں قیلولہ ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھانے والا ایک عنصر ہوسکتا ہے جبکہ اس سے وہ دماغی حصے تنزلی کا شکار ہوتے ہیں جو بیداری کو ریگولیٹ کرتے ہیں جس کا نتیجہ زیادہ وقت تک قیلولہ کرنے سے نکلتا ہے۔محققین کے مطابق اکثر قیولہ کرنا ممکنہ دماغی تبدیلیوں کا اشارہ ہوسکتی ہیں، خاص طور پر معمر افراد میں دوپہر کو سونے کی عادت کا مشاہدہ کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج کو ٹھوس قرار نہیں دیا جاسکتا اور یہ کہنا ابھی ممکن نہیں کہ قیلولہ کرنا ڈیمینشیا کا باعث بنتا ہے۔ان کی جانب سے اس حوالے سے مزید تحقیق کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنلز آف Gerontology میں شائع ہوئے۔اس سے قبل اپریل 2026 میں امریکا کے بریگھم ماس جنرل ہاسپٹل اور رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایسے معمر افراد جن کو اکثر دوپہر کے وقت غنودگی کا سامنا ہوتا ہے، ان میں یہ صرف نیند کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ جسم کے اندر چھپے مختلف امراض کی علامت بھی ہوتا ہے۔

نئی نسل زندگی سے مطمئن نہیں، ہر 4 میں سے ایک ڈپریشن میں مبتلا

اس تحقیق میں 1338 معمر افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی صحت اور معمولات کا جائزہ 19 سال تک لیا گیا۔اس دوران دوپہر کی نیند کی عادات اور موت کی شرح کے درمیان تعلق کو بھی ٹریک کیا گیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دوپہر میں اکثر زیادہ وقت تک قیلولہ کرنے کی عادت اور موت کے خطرے کے درمیان تعلق موجود ہے۔محققین نے بتایا کہ درمیانی عمر یا بڑھاپے میں دوپہر کو زیادہ غنودگی دماغی تنزلی، امراض قلب اور دیگر مسائل سے جڑی ہوتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں قیلولے کی عادت اور موت کے درمیان تعلق کا تجزیہ کیا گیا اور دریافت ہوا کہ اس سے مختلف طبی مسائل کا اشارہ ملتا ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 20 سے 60 فیصد کے درمیان معمر افراد قیلولہ کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق کبھی کبھار قیلولہ کرنا تو دماغی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے مگر جب یہ روزانہ کا معمول بن جائے تو یہ عادت متعدد امراض کا اشارہ ہوتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ ہر اضافی گھنٹے کا قیلولہ موت کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ درحقیقت ناشتے کے بعد قیولہ دوپہر کے کھانے کے بعد کے قیلولے سے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔

 

دنیا گلوبل وارمنگ کی خطرناک ترین حد کے قریب پہنچ گئی

اگلی پوسٹ
نادرا نے شناختی کارڈ کا سٹیٹس معلوم کرنے کا آسان طریقہ بتا دیا
پچھلی پوسٹ
چاند سکڑنے لگا، 10 ہزار سے زیادہ نئی فالٹ لائنز کی نشاندہی