پشاور کے علاقے دیر کالونی میں الخیر ایجوکیشن سسٹم کی عمارت کی چھتیں گرنے کے اندوہناک واقعے کے بعد صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظتی جانچ پڑتال کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جبکہ حادثے کی تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے بھی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعے میں 30 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر سمیت 31 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 52 افراد زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے فی خاندان جبکہ زخمی بچوں کے لیے 2 لاکھ روپے فی کس مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔
واقعے کی حتمی تکنیکی وجہ کا تعین ابھی باقی
ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے حادثے کی ابتدائی رپورٹ کمشنر پشاور ڈویژن کو ارسال کر دی گئی ہے، جس کے مطابق ریسکیو کنٹرول روم کو صبح 8 بج کر 48 منٹ پر اسکول کی چھت گرنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے سات منٹ کے اندر ابتدائی ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ آپریشن میں 18 ایمبولینسوں، دو ڈیزاسٹر رسپانس گاڑیوں اور 100 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افسران بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ رپورٹ کے مطابق اسکول کی عمارت تین منزلوں پر مشتمل تھی اور گنجان آباد علاقے میں واقع تھی۔ ابتدائی مشاہدات میں عمارت کا ساختی ڈھانچہ کمزور ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ پہلی منزل کے کلاس روم کا ڈھانچہ گراؤنڈ فلور کے کلاس روم پر آ گرا، جہاں حادثے کے وقت طلبہ موجود تھے۔ ملبے تلے دبے بچوں اور عملے کو نکال کر طبی امداد فراہم کی گئی اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال اور نصیراللہ بابر اسپتال منتقل کیا گیا۔ دونوں اسپتالوں کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 89 مریض لائے گئے، جن میں 34 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 52 مریضوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ تاہم، واقعے کی حتمی تکنیکی وجہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

حادثے کے حوالے سے تھانہ آغا میر جانی شاہ میں ایس ایچ او ریاض خان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں اسکول کے مالکان، شیئر ہولڈرز، عمارت تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار ارشاد خان اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اسکول کی عمارت کی تعمیر میں ناقص میٹریل استعمال کرنے، عمارت کے بوسیدہ اور غیر موزوں ہونے اور چھتوں و دیواروں کی خستہ حالی سے متعلق پہلے بھی شکایات سامنے آنے کے الزامات ہیں۔ مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی جانب سے شکایات کے باوجود مبینہ طور پر عمارت کی مرمت نہیں کی گئی۔ پولیس کے مطابق اسکول کی 16 مرلے اراضی وحید اور جاوید کی ملکیت تھی، جو 2024 میں لیز پر حاصل کی گئی اور اس پر عمارت تعمیر کی گئی۔ مقدمہ قتل بالسبب سمیت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 322، 148 اور 149 کے تحت درج کیا گیا ہے، جبکہ نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ واقعے کی تفتیش سب انسپکٹر نثاراللہ خان کے سپرد کر دی گئی ہے۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے چیئرمین سیکرٹری ٹرانسپورٹ زبیر احمد اور رکن چیف انجینئر محکمہ مواصلات و تعمیرات جمشید علی خان مقرر کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کو اسکول کی عمارت کی ساخت، تعمیراتی معیار، حادثے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لے کر سات روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیٹی ذمہ داروں کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی کے لیے سفارشات بھی پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ گورنر فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر متعلقہ حکام کا اجلاس طلب کیا ہے، جس میں مشیر تعلیم سید عامر عبداللہ، محکمہ تعلیم، پرائیویٹ اسکولز اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے حکام شرکت کریں گے۔ اجلاس میں حادثے کی ابتدائی رپورٹ اور حفاظتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
33 بچے، 2 اساتذہ جاں بحق، ہسپتال انتظامیہ نے رپورٹ جاری کردی
دیر کالونی سانحے کے بعد محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے صوبے کے تمام اضلاع میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کے لیے انسپکشن کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔ ضلعی کمیٹیوں کی سربراہی ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر ای ایم اے کریں گے، جبکہ محکمہ تعلیم، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور دیگر نامزد ارکان بھی ان کمیٹیوں میں شامل ہوں گے۔ کمیٹیاں ذاتی ملکیت یا کرائے پر حاصل کی گئی تمام نجی اسکولوں کی عمارتوں کا موقع پر معائنہ کریں گی اور چھتوں، سیلنگ، دیواروں، ستونوں، شہتیروں، بنیادوں، سیڑھیوں اور دیگر اہم حصوں کی حالت کا جائزہ لیں گی۔ معائنے کے بعد عمارتوں کو محفوظ، مرمت طلب اور ممکنہ طور پر غیر محفوظ زمروں میں تقسیم کیا جائے گا۔ فوری خطرے کی حامل عمارتوں کی نشاندہی کرکے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جائے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر ان کا استعمال معطل کرنے یا رسائی محدود کرنے کی سفارش بھی کی جائے گی۔ کمیٹیوں کو نوٹیفکیشن جاری ہونے کے تین دن کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹس اور اصلاحی اقدامات سے متعلق سفارشات محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دوسری جانب صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی بھی ضلعی سطح پر جامع تکنیکی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کو تکنیکی ٹیمیں نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جو اسکولوں کی چھتوں، دیواروں، بنیادوں اور ستونوں سمیت عمارت کے دیگر اہم حصوں کا معائنہ کریں گی۔ تمام اضلاع کو 26 اکتوبر تک سروے رپورٹس جمع کرانے اور ہر سرکاری اسکول کے لیے سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس عمل کا مقصد غیر محفوظ عمارتوں کی بروقت نشاندہی، ضروری مرمت اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانا ہے تاکہ طلبہ اور اساتذہ کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے افسوس ناک واقعات سے بچا جا سکے۔
ریسکیو آپریشن مکمل، شہدا کی تعداد میں اضافہ
حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ بھی دیکھنے میں آیا، جہاں مقامی افراد کے مطابق بعض بچوں نے اسکول کے قریب کھڑی پرنسپل کی گاڑی پر پتھراؤ کرکے اس کے شیشے، بمپر اور دیگر حصوں کو نقصان پہنچایا۔ بتایا گیا کہ پرنسپل کی گرفتاری کے بعد گاڑی اسکول کے قریب پارک تھی۔ واقعے کی مکمل وجوہات، عمارت کی تعمیر میں ممکنہ بے ضابطگیوں اور حفاظتی شکایات پر بروقت کارروائی نہ ہونے کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حکام کی جانب سے اسکولوں کی عمارتوں کے تحفظ کے لیے صوبائی سطح پر اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔





