متحدہ عرب امارات میں پیٹرول کی قیمتیں 4 درہم فی لیٹر سے تجاوز کرگئیں اور چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ عرب میڈیارپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات میں اکتوبر 2026 کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا ہے، جن کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگیا۔ نئی قیمتوں میں ستمبر کے مقابلے میں تمام اقسام کے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کے تحت سپر 98 پیٹرول کی قیمت 3.80 درہم سے بڑھا کر 4.40 درہم فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے، جبکہ اسپیشل 95 پٹرول 3.69 درہم سے بڑھ کر 4.28 درہم فی لیٹر ہوگیا ہے۔ اسی طرح ای پلس 91 پٹرول کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، اس کی نئی قیمت 4.21 درہم فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو ستمبر میں 3.61 درہم تھی۔ ڈیزل کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے
بلاسود قرضوں کی فراہمی 125 ارب روپے سے تجاوز کر گئی
جو ستمبر میں 4.30 درہم فی لیٹر تھی، اب 4.80 درہم فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ اکتوبر کے دوران گاڑی کی قسم کے لحاظ سے فل ٹینک کروانے پر شہریوں کو ستمبر کے مقابلے میں 30.09 درہم سے لے کر 44.4 درہم تک اضافی ادا کرنے ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں جولائی کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں کمی ہوئی تھی، تاہم اگست اور ستمبر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں۔ واضح رہے کہ فروری میں مشرق وسطی میں شروع ہونے والی جنگی صورتحال کے بعد امارات میں خوردہ ایندھن کی قیمتوں میں 60 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اگرچہ جولائی میں کچھ ریلیف ملا تھا، تاہم اگست، ستمبر اور اب اکتوبر میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھا براہِ راست مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے، ایندھن میں اس اضافے سے گھریلو بجٹ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔
پاکستان کے ٹیکسٹائل خام مال کی برآمدات میں 3.4 فیصد کمی

