امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور 8 عرب ممالک کے اعلی فوجی حکام نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں خفیہ ملاقات کی، جس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا، اسرائیل اور 8 عرب ممالک کے اعلی فوجی حکام نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں خفیہ ملاقات کی، جس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق یہ غیر اعلانیہ اجلاس امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے منعقد کیا تھا۔ اجلاس میں امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے فوجی سربراہان شریک ہوئے۔
ملک بھر میں ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 68 لاکھ 69 ہزار 217 ہوگئی
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی جرمنی میں 8 ممالک کے اعلی فوجی رہنمائوں کی ایک کانفرنس کی میزبانی کی تصدیق کی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایڈمرل بریڈ کوپر نے اجلاس کے شرکا کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے باوجود امریکا خطے سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت بڑھانے سے متعلق امریکی منصوبے پر بھی فوجی سربراہان کو بریفنگ دی۔اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے بھی اجلاس میں اسرائیلی فوج کی مختلف محاذوں پر کارروائیوں کے بارے میں دیگر ممالک کے فوجی حکام کو بریف کیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں شیڈول کانفرنس کے دوران 8 ممالک کے اعلی فوجی رہنماں کی میزبانی کی گئی اور مشرق وسطی میں سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔
ساڑھے 4ہزار سال قدیم عظیم اہرام مصر میں ریاضیاتی کوڈ پوشیدہ
تاہم اجلاس کی تفصیلات یا ایران سے متعلق مخصوص فیصلوں کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق خطے میں اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان فوجی تعاون میں گزشتہ برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔2020 میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان ابراہیم معاہدوں کے بعد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کے نئے راستے کھلے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب، امریکی سینٹرل کمانڈ کی معاونت سے، حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں میں اسرائیلی انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی معاونت کے امکانات پر بھی بات کر رہے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے تیز کردیے ہیں اور بحیرہ احمر میں باب المندب کے قریب بھی پیش قدمی کی ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد سعودی عرب اور امریکا کے درمیان اعلی سطحی فوجی رابطے بھی بڑھے ہیں۔ایگزیوس کے مطابق جرمنی کا اجلاس خطے میں جاری وسیع تر کشیدگی کے دوران امریکا، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان فوجی رابطوں کی ایک اہم مثال ہے، تاہم شرکا ممالک نے اس ملاقات کو پہلے سے عوامی سطح پر اعلان نہیں کیا تھا۔
دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ 40سال بعد پگھل کر ختم ہوگیا
ایران جنگ میں امریکا کے 33ارب ڈالر سے زائد خرچ، درجنوں جیٹ اور ڈرونز تباہ

