مردان : پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر رضا اللہ نے انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ میں ایسی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس نے نہ صرف پاکستان کو ایک یقینی شکست سے کچھ دیر کے لیے بچایا بلکہ نوجوان کرکٹر کی حیران کن جدوجہد اور تیز رفتار ترقی کی کہانی بھی دنیا کے سامنے رکھ دی۔ اکیس سالہ رضا اللہ نے ڈیبیو پر انگلینڈ کیخلاف صرف 63 گیندوں پر 81 رنز کی اننگ کھیلی جس میں 4 چوکے اور 9 چھکے شامل تھے جو ٹیسٹ ڈیبیو پر کسی بلے باز کی جانب سے سب سے زیادہ چھکوں کے عالمی ریکارڈ کے برابر ہیں۔ نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی بھی ٹیسٹ ڈیبیو پر 9 چھکے لگا چکے ہیں۔ رضا اللہ اس وقت بیٹنگ کے لیے آئے جب پاکستان 318 رنز پر 8 وکٹیں گنوا چکا تھا اور انگلینڈ کی پہلی اننگز کی 320 رنز کی برتری کے باعث پاکستان شدید مشکلات میں تھا۔ اس مرحلے پر پاکستان کو صرف اتنی برتری حاصل کرنے کی ضرورت تھی کہ انگلینڈ کو دوبارہ بیٹنگ کے لیے میدان میں آنا پڑے، لیکن رضا اللہ نے صورتحال ہی بدل دی۔
ویرات کوہلی کے بھارت سے لندن شفٹ ہونے کی وجہ سامنے آگئی
نمبر 9 پر بیٹنگ کے لیے آنے والے رضا اللہ نے روایتی ٹیسٹ انداز اختیار کرنے کے بجائے انگلش باؤلرز پر بھرپور حملہ کردیا۔ انہوں نے شروع ہی سے جارحانہ اسٹروکس کھیلتے ہوئے انگلینڈ کے باؤلرز کو دباؤ میں ڈال دیا۔ گس ایٹکنسن کے ایک اوور میں رضا اللہ نے تین چھکے لگائے، جبکہ محمد عباس نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں نے صرف 57 گیندوں پر 50 رنز کی شراکت مکمل کی۔ 43 گیندوں پر انہوں نے نصف سنچری مکمل کی جو پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو پر تیز ترین نصف سنچری کا نیا ریکارڈ بھی قرار دی گئی۔ نصف سنچری مکمل کرنے کے لیے انہوں نے جفرا آرچر کو دو مسلسل چھکے بھی لگائے۔ اس کے بعد بھی نوجوان بلے باز نے حملہ جاری رکھا اور محمد عباس کے ساتھ مل کر پاکستان کو مشکلات سے نکال دیا۔ رضا اللہ اور محمد عباس نے نویں وکٹ کے لئے 121 رنز کی شراکت قائم کی ۔ عباس نے 67 گیندوں پر 42 رنز بنائے، جس میں 5 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ دونوں نے پاکستان کا اسکور 318 رنز سے بڑھا کر 439 رنز تک پہنچا دیا۔ اس شراکت نے انگلینڈ کو اس وقت شدید پریشانی میں مبتلا کردیا جب چند گھنٹے پہلے تک میزبان ٹیم کو یقین تھا کہ وہ پاکستان کو جلد آؤٹ کرکے میچ تین دن کے اندر ختم کردے گی۔
امام الحق کی ماضی کی رپورٹ بھی کھل گئی، جعلی انجری کی کہانی سامنے آگئی
محمد عباس کے آؤٹ ہونے کے بعد رضا اللہ نے آخری وکٹ کے طور پر بھی مزاحمت جاری رکھی۔ انہوں نے ڈین لارنس کے خلاف ایک اور بلند و بالا چھکا لگا کر اپنے 80 رنز مکمل کیے۔ آخری اوور میں انہیں ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار دیا گیا، لیکن ریویو پر فیصلہ تبدیل ہوگیا۔ تاہم اگلی ہی گیند پر وہ وکٹ کے پیچھے جارڈن کوکس کے ہاتھوں اسٹمپ ہوگئے۔ ان کے آئوٹ ہوتے ہی دوسری اننگ 449 رنز پر ختم ہوگئی ، پاکستان کی دوسری اننگز میں شان مسعود نے 95، بابر اعظم نے 76 اور اذان اویس نے 59 رنز بنائے، لیکن آخری مرحلے میں رضا اللہ اور محمد عباس کی جارحانہ بیٹنگ نے پاکستان کو 449 رنز تک پہنچا دیا۔ اس طرح پاکستان نے انگلینڈ کے سامنے 130 رنز کا ہدف رکھ دیا ہے رضا اللہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع مردان سے وہ دائیں ہاتھ کے فاسٹ بائولر ہیں اور ان کی رفتار اب تک تقریباً 90 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے، رضا اللہ انتہائی غریب گھران سے تعلق رکھتے ہیں اور مردان میں سبزی کی ریڑھی بھی لگاتے ہیں رضا اللہ نے بہت مختصر عرصے میں ڈومیسٹک کرکٹ سے قومی ٹیم تک سفر کیا۔ انہوں نے گزشتہ سال پشاور کی ٹیم کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ میں قدم رکھا اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو سے قبل ان کے نام صرف آٹھ فرسٹ کلاس میچز تھے۔
کامن ویلتھ گیمز’ پاکستانی باکسر سمیت کئی ایتھلیٹس گلاسکو میں لاپتہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ رضا اللہ صرف باؤلنگ کے لیے ہی نہیں جانے جاتے بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں وہ نچلے نمبروں پر بیٹنگ کرنے کے علاوہ ضرورت پڑنے پر اوپننگ بھی کر چکے ہیں۔ ان کے نام ایک فرسٹ کلاس سنچری بھی موجود ہے۔ ایک میچ میں فالو آن کے بعد انہیں اوپننگ کا موقع ملا تو انہوں نے صرف 95 گینوں پر 100 رنز جڑدیئے تھے۔ رضا اللہ کو اصل بڑی پہچان اس سال پاکستان سپر لیگ میں ملی، جہاں انہوں نے راولپنڈی کی جانب سے اپنا پی ایس ایل ڈیبیو کیا۔ ان کی رفتار اور جارحانہ انداز نے قومی سلیکٹرز کی توجہ حاصل کی اور انہیں قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلنگ کیمپ میں بلایا گیا۔ تاہم اس وقت شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہ نوجوان اتنی جلدی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرے گا۔
ٹیم میں انتخاب کی خبر ملی تو پاسپورٹ تک نہیں تھا
رضا اللہ کے قومی ٹیم تک پہنچنے کی کہانی کا سب سے حیران کن پہلو ان کا اچانک انگلینڈ پہنچنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جب انہیں انگلینڈ کے دورے کے لیے پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو وہ ابتدائی اسکواڈ کا حصہ بھی نہیں تھے۔ حیرت انگیز طور پر ان کے پاس پاسپورٹ تک موجود نہیں تھا۔ جب قومی ٹیم میں شمولیت کی اطلاع دینے کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا فون بھی بند تھا۔ بالآخر ایک کوچ انہیں تلاش کرنے کے لیے گیا اور اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکل پر ان کے پاس پہنچا۔ اس کے بعد ہنگامی بنیادوں پر ان کا پاسپورٹ اور ویزا بنوانے کا عمل شروع کیا گیا اور یوں وہ ایک ایسے انگلینڈ کے دورے کا حصہ بن گئے جس کا کچھ عرصہ پہلے تک انہیں کوئی اندازہ بھی نہیں تھا۔ رضا اللہ نے انگلینڈ پہنچ کر زیادہ انتظار نہیں کیا۔ ایجبسٹن ٹیسٹ کے پہلے ہی انٹرنیشنل اوور میں انہوں نے انگلینڈ کے سب سے تجربہ کار بلے بازوں میں سے ایک جو روٹ کو ایل بی ڈبلیو کرکے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کرلی۔ یہ وکٹ ان کے بین الاقوامی کیریئر کی صرف چوتھی گیند پر آئی۔ بعد ازاں انہوں نے ایمیلیو گے، جیمی اسمتھ اور اولی رابنسن کو بھی آئوٹ کیا، یوں ٹیسٹ ڈیبیو میں رضا اللہ نے پہلے گیند سے اپنی صلاحیت ثابت کی اور پھر بلے سے ایسی طوفانی اننگز کھیلی جس نے پوری کرکٹ دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ رضا اللہ کے لیے یہ صرف ایک شاندار ڈیبیو نہیں بلکہ ایک ایسی کہانی کا آغاز ہے جس میں مردان کے ایک غیر معروف نوجوان نے چند ہی دنوں میں ڈومیسٹک کرکٹ سے انگلینڈ کے ایجبسٹن میدان تک کا سفر طے کیا پاسپورٹ کے بغیر ٹیم میں شامل ہوئے اور دنیا بھر میں اپنی شناخت بنا لی

