بینکاک : مشرقِ وسطی میں ایران کے خلاف مختلف آپریشنز میں مسلسل 250 دن سمندر میں گزارنے کے بعد امریکی جنگی جہاز بدھ کی صبح تھائی لینڈ کے ساحل پر پہنچ گیا۔تھائی لینڈ کے معروف سیاحتی شہر پٹایا میں حکام نے امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی آمد سے قبل جسم فروشی میں ملوث افراد اور گینگز کے خلاف بڑا کریک ڈائون شروع کر دیا ہے۔ عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطی میں ایران کے خلاف مختلف آپریشنز میں مسلسل 250 دن سمندر میں گزارنے کے بعد امریکی جنگی جہاز بدھ کی صبح تھائی لینڈ کے ساحل پر پہنچا ہے۔
کینیڈا میں اچانک نمودار ہونیوالا جزیرہ غائب ہوگیا
اس جہاز پر سوار تقریبا پانچ ہزار امریکی سیلرز، میرینز اور پائلٹس دو ستمبر سے چھ ستمبر تک پٹایا کے ساحل پر اپنی چھٹیاں گزاریں گے۔تھائی لینڈ میں اگرچہ فحاشی اور جسم فروشی کا کاروبار قانونا ممنوع ہے، لیکن عملی طور پر پٹایا جیسے شہروں میں اس کو بڑے پیمانے پر برداشت کیا جاتا رہا ہے، جسے ماضی میں امریکی ادارے ایف بی آئی نے دنیا کا ایک بڑا سیکس ٹورازم مرکز بھی قرار دیا تھا۔تاہم اس بار امریکی فوجیوں کی آمد سے قبل ہی پٹایا پولیس نے سخت اقدامات کرتے ہوئے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔حکام کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پٹایا کے مقامی تاجر اور کاروباری افراد پانچ ہزار امریکی فوجیوں کی آمد کو اپنی مندی کی شکار معیشت کیلئے ایک بڑی امید سمجھ رہے ہیں۔یہ طیارہ بردار جہاز نومبر میں امریکی ریاست کیلیفورنیا سے روانہ ہوا تھا اور طویل عرصے تک ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مصروف رہا، اس دوران جہاز پر سوار عملے کو سخت حالات، بنیادی اشیا کی کمی اور شدید تھکن کا سامنا کرنا پڑا۔
دھوپ سے چلنے والی دنیا کی پہلی ایمبولینس کا کامیاب تجربہ
اب تھائی لینڈ میں قیام کے دوران ان تمام فوجی اہلکاروں کو کچھ پابندیوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کی اجازت دی گئی ہے۔31 اگست کو پتایا کے سٹی ہال میں ہونے والے اجلاس کے بعد واضح کیا گیا کہ آنے والے امریکی فوجیوں کے لیے منشیات کی دکانوں، کینابیز آٹ لیٹس اور بعض واٹر اسپورٹس پر پابندی ہوگی۔ وہ نائٹ لائف کے لیے مشہور واکنگ اسٹریٹ تو جا سکتے ہیں، لیکن انہیں رات دو بجے کے بعد شراب خانوں میں رہنے سے منع کیا گیا ہے، جبکہ مقامی تاجروں کو کسی بھی قسم کی تجارتی جنسی خدمات، بالخصوص بچوں کے استحصال سے جڑی سروسز فراہم کرنے سے سخت سے روک دیا گیا ہے۔مقامی سطح پر اس دورے کو معاشی لحاظ سے انتہائی اہم دیکھا جا رہا ہے۔ پٹایا کے میئر پوراماس نگامپیچس نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر امریکی فوجی اہلکار اپنے قیام کے دوران یومیہ ایک ہزار سے تین ہزار بھات یعنی تقریبا تیس سے نوے امریکی ڈالر تک خرچ کر سکتا ہے، جو اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کتنے دن اور کہاں قیام کرتے ہیں۔
کارخانے کی توسیع کے دوران 2600سال پرانا قبرستان دریافت
اسی طرح پٹایا نائٹ لائف بزنس ایسوسی ایشن کی صدر لیزا ہیملٹن نے اس دورے کو مقامی تاجروں کے لیے امید کی کرن قرار دیتے ہوئے کہا کہ سال 2026 میں کاروباری حالات پچھلے بیس سالوں میں ان کے دیکھے گئے تمام سالوں سے زیادہ کمزور رہے ہیں۔تاہم معاشی فائدے کے ساتھ ساتھ ماہرین کی جانب سے خطرات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ بینکاک یونیورسٹی کے اسکول آف ہیومینٹیز اینڈ ٹورازم مینجمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر پپتپونگ فکفیئر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں گاہکوں کی آمد سے صحت اور سلامتی کے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ صارفین کی زیادہ تعداد سے جنسی استحصال اور بیماریوں کے پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ان خدشات کے پیشِ نظر پولیس نے ساحلی علاقوں اور نائٹ لائف کے مراکزی مقامات پر گشت بڑھا دیا ہے اور پچاس سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس حوالے سے پٹایا کے پولیس چیف انیک سراٹھونگیو نے کارروائیوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ بہت مشکل کام ہے، کیونکہ جسم فروشی میں ملوث افراد حکام کی نظروں سے بچ کر عوامی مقامات پر باآسانی کام کر لیتے ہیں۔ان تمام سخت اقدامات کے بعد اب مقامی انتظامیہ معاشی فائدے اور قانون کی بالادستی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

