Skip to main contentSkip to footer

دوستوں کو دبئی بلائیں، 3000 درہم کا فائدہ اٹھائیں

دوستوں کو دبئی بلائیں، 3000 درہم کا فائدہ اٹھائیں

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے سیاحت کے شعبے کو دوبارہ متحرک کرنے اور بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں اضافہ کرنے کے لیے ایک منفرد منصوبے کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت دبئی کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو شہر کی سیر کے لیے مدعو کریں گے تو انہیں 3 ہزار درہم (800 امریکی ڈالر سے زائد) مالیت تک کی مختلف رعایتیں، سہولتیں اور خصوصی مراعات فراہم کی جائیں گی۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ کئی ماہ کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات نے دبئی کے سیاحتی شعبے کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے۔ دبئی میڈیا آفس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ دبئی ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم نے “اے دبئی انوائٹ”کے نام سے ایک خصوصی مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کا مقصد دبئی کے رہائشیوں کو شہر کے سفیر کا کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا ہے تاکہ وہ اپنے دوستوں، عزیز و اقارب اور دیگر جاننے والوں کو دبئی آنے کی دعوت دیں اور شہر کی سیاحت، ثقافت، مہمان نوازی اور عالمی معیار کی سہولتوں سے روشناس کرائیں۔

کن افراد کو دبئی بلایا جاسکتا ہے؟

حکومتی ویب سائٹ کے مطابق یہ خصوصی پروگرام 20 جولائی سے 31 اکتوبر تک جاری رہے گا، اس دوران وہ تین ہزار درہم سے زائد مالیت کے فوائد حاصل کرسکیں گے، یہ فوائد انہیں فراہم کئے جائیں گے جو اپنے دوستوں اور اہلخانہ کو دبئی مدعو کریں گے، ان مراعات میں معروف ہوٹلوں میں خصوصی رعایتی قیام، ریستورانوں میں کھانے پینے پر خصوصی آفرز، تفریحی پارکس اور سیاحتی مقامات کے مفت یا رعایتی ٹکٹ، شاپنگ اور دیگر تفریحی سرگرمیوں پر خصوصی سہولتیں شامل ہوں گی۔ دبئی حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد صرف سیاحوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ مقامی رہائشیوں کو بھی سیاحت کے فروغ میں براہ راست شریک کرنا ہے۔ حکام کے مطابق دنیا بھر میں “فرینڈز اینڈ فیملی ٹورازم” کو سیاحت کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ذاتی دعوت پر آنے والے افراد نہ صرف زیادہ اعتماد کے ساتھ سفر کرتے ہیں بلکہ اپنے تجربات دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں، جس سے مستقبل میں مزید سیاحوں کی آمد کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

کویت جانے والوں کیلئے خوشخبری، قوانین میں نرمی کردی گئی

 

سیاحتی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں جاری جنگ اور سیکیورٹی خدشات کے باعث دبئی کی سیاحتی صنعت کو سخت دھچکا پہنچا۔ متعدد بین الاقوامی سیاحوں نے اپنے سفری منصوبے منسوخ یا  مؤخر کر دیے جبکہ کئی ایئرلائنز نے بھی اپنے آپریشن محدود کر دیے تھے، جس سے ہوٹل انڈسٹری، ریستورانوں، شاپنگ مالز اور دیگر کاروباری شعبوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کو ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑا، جن کے دوران بعض اہم سیاحتی علاقوں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ مقامات میں پام جمیرہ کے علاقے میں واقع ہوٹل اور دنیا بھر میں مشہور برج العرب ریزورٹ بھی شامل بتایا گیا۔ ان حالات کے باعث موسم سرما، جو دبئی میں سیاحت کا عروج کا سیزن سمجھا جاتا ہے، کے دوران بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاحوں نے شہر چھوڑ دیا یا اپنے سفر منسوخ کر دیے۔ آٹھ اپریل کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اگرچہ حالات میں نسبتاً بہتری آگئی تھی اور کچھ بین الاقوامی سیاح دوبارہ دبئی کا رخ کرنے لگے، تاہم ماہرین کے مطابق سیاحت کا شعبہ اب بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔ اس وقت دبئی کے بیشتر ہوٹل اور سیاحتی مراکز بڑی حد تک مقامی رہائشیوں اور اندرون ملک سفر کرنے والے مہمانوں پر انحصار کر رہے ہیں۔

پانچ یورپی ممالک کا پاکستانیوں کو نوکریاں دینے پر اتفاق

 

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی کی معیشت میں سیاحت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ ہر سال لاکھوں غیر ملکی سیاح دبئی کا رخ کرتے ہیں، جس سے ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، شاپنگ، ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور خدمات کے مختلف شعبوں کو اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومت سیاحت کی جلد بحالی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ اسی تناظر میں دبئی حکومت نے رواں سال مئی میں 40 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے ایک خصوصی اقتصادی پیکج کی بھی منظوری دی تھی

آسٹریلیا میں ملازمت اور رہائش کا دروازہ کھل گیا

 

اس پیکج کا مقصد ان کاروباری اداروں، ہوٹلوں، سیاحتی کمپنیوں اور دیگر شعبوں کو مالی سہارا فراہم کرنا تھا جو جنگ کے بعد پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اور آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد ناکہ بندی کے اثرات سے متاثر ہوئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اقتصادی امدادی پیکج، نئی سیاحتی مہمات اور “اے دبئی انوائٹ” جیسے منصوبے مل کر نہ صرف دبئی کی سیاحتی صنعت کو دوبارہ مستحکم کریں گے بلکہ عالمی سطح پر دبئی کی پرکشش، محفوظ اور جدید سیاحتی منزل کی حیثیت کو بھی مزید مضبوط بنائیں گے۔ حکومت کو امید ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں بھی بہتری آئے گی۔

دبئی جانیوالے مسافروں کیلئے بڑی خوشخبری،مفت فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام

 

 

سعودی عرب نے سیاحوں کے لیے نیا پیکج ویزا متعارف کرادیا

 

Next Post
ال نینو نے پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی
Previous Post
بارشوں کی تباہ کاری جاری، ہلاکتوں کی تعداد 23 ہوگئی