Skip to main contentSkip to footer

7 کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کا 80 فیصد مکمل ڈھانچہ 5کروڑ ڈالر میں فروخت

7 کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کا 80 فیصد مکمل ڈھانچہ 5کروڑ ڈالر میں فروخت

کروڑوں سال قدیم ڈائنوسار کا تقریبا 80 فیصد مکمل ڈھانچہ 5کروڑ سے زائد ڈالرز میں فروخت ہوگیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تقریباً ً7 کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کا تقریبا 80 فیصد مکمل ڈھانچہ، نیو یارک میں ہونے والی نیلامی میں 5کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ قیمت میں فروخت ہوا۔ نیلامی کے دوران آخری بولی 4کروڑ 30لاکھ ڈالر کی ہوئی، تاہم فیس شامل ہونے کے بعد مجموعی قیمت 5کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی جو کسی بھی ڈائنوسار کے ڈھانچے کی اب تک کی سب سے مہنگی فروخت قرار دی جا رہی ہے۔7کروڑسال قدیم ٹی ریکس ڈائنوسار کو گس کا نام دیا گیا ہے، جس کی اونچائی تقریبا 12.5 فٹ 3.8 میٹر اور لمبائی 38 فٹ 11.5 میٹرہے۔ ماہرین کے مطابق اس ڈھانچے میں غیر معمولی طور پر محفوظ کھوپڑی، طاقتور دانتوں سے بھرا جبڑا، دونوں پائوں اور کئی نایاب ہڈیاں، جن میں فرکیولا بھی شامل ہے۔یہ فوسل 2021میں امریکی ریاست ساتھ ڈکوٹا کے ایک فارم سے دریافت ہوا۔نیلامی کے دوران فون پر شریک ایک گمنام خریدار نے چھ دیگر بولی دہندگان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے صرف 10 منٹ کی مسابقتی بولی میں یہ تاریخی ڈھانچہ خرید لیا۔ ماہرین آثارِ قدیمہ اور فوسل سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس ڈھانچے کی بہترین حالت اس کی تاریخی اور سائنسی اہمیت میں کئی گنا اضافہ کرتی ہے۔ ایسے محفوظ فوسلز نہ صرف ڈائنوسار کی جسمانی ساخت کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ ان کی حرکت، خوراک، ارتقائی تاریخ اور زمین پر ان کے دورِ حیات کے بارے میں بھی نئی معلومات فراہم کرتے ہیں۔

ڈائنو سارز کیلئے معدومیت کے 6 کروڑ 50 لاکھ سال بعد سوگ


رپورٹ کے مطابق یہ نایاب فوسل 2021 میں امریکی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کے ایک فارم سے دریافت کیا گیا تھا۔ دریافت کے بعد ماہرین نے کئی ماہ تک احتیاط سے اس کی کھدائی، صفائی، بحالی اور سائنسی جانچ کا عمل مکمل کیا، جس کے بعد اسے نیلامی کے لیے پیش کیا گیا۔ نیلامی کے دوران دنیا بھر سے متعدد خریداروں نے حصہ لیا، تاہم فون کے ذریعے شریک ہونے والے ایک گمنام خریدار نے دیگر چھ بولی دہندگان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے صرف 10 منٹ تک جاری رہنے والی تیز رفتار مسابقتی بولی میں اس نایاب ڈھانچے کو خرید لیا۔ نیلام گھر نے خریدار کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کسی نجی کلیکٹر، عجائب گھر یا تحقیقی ادارے کی جانب سے خریدا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں ڈائنوسار کے فوسلز کی عالمی مارکیٹ میں دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امیر کلیکٹرز، عجائب گھر اور تحقیقی ادارے نایاب اور نسبتاً مکمل ڈھانچوں کے لیے کروڑوں ڈالر ادا کرنے کو تیار ہوتے ہیں، کیونکہ ایسے فوسلز نہ صرف سائنسی تحقیق کے لیے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں بلکہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔

مریخ پر زندگی کے مزید بنیادی اجزا دریافت

فوسل ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ریکس دنیا کے سب سے مشہور گوشت خور ڈائنوسارز میں شمار ہوتا ہے، جو تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سے 6 کروڑ 80 لاکھ سال قبل شمالی امریکہ میں پایا جاتا تھا۔ اس کی طاقتور کھوپڑی، انتہائی مضبوط جبڑا، تیز دھار دانت اور غیر معمولی شکار کی صلاحیت نے اسے اپنے دور کا سب سے خوفناک شکاری بنا دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس ریکارڈ ساز فروخت نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ نایاب فوسلز کی عالمی منڈی مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہے۔ تاہم بعض سائنس دان اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ایسے قیمتی فوسلز نجی کلیکشن کے بجائے عجائب گھروں اور تحقیقی اداروں میں محفوظ ہونے چاہییں تاکہ دنیا بھر کے محققین اور عوام ان سے استفادہ کر سکیں اور مستقبل کی سائنسی تحقیق کو مزید فروغ مل سکے۔

شیاطین کو بلانے کیلئے جادوئی منتر لکھی پراسرار تختی دریافت

سائنسدانوں نے دیو قامت پرندہ نما ڈائنوسار کا فوسل دریافت کر لیا

اگلی پوسٹ
ملتان میں گاڑی سے لڑکے کو کچلنے والا ملزم عدالت میں پیش
پچھلی پوسٹ
کام کی کارکردگی میں مسلسل کمی ڈیمینشیا کی پہلی علامت