Skip to main contentSkip to footer

موت سے پہلے انسان کیا محسوس کرتا ہے؟ برطانوی نرس نے تجربہ بیان کر دیا

موت سے پہلے انسان کیا محسوس کرتا ہے؟ برطانوی نرس نے 20 سالہ تجربہ بیان کر دیا

برطانیہ کی ایک نرس نے کہا ہے کہ موت کے قریب پہنچنے والے بہت سے افراد ایک جیسے تجربات بیان کرتے ہیں اور اکثر ایسی باتیں کرتے ہیں جنہیں وہ زندگی کے آخری لمحات میں ایک خاص کیفیت کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔ نرس پینی ہاکنز اسمتھ گزشتہ 20 برس سے ہاسپس نرس کے طور پر کام کر رہی ہیں اور انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کئی ایسے مریضوں کے آخری وقت میں ان کے ساتھ موجود رہنے کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ پینی کے مطابق جب کوئی شخص قدرتی موت کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو عموما وہ زیادہ سونے لگتا ہے، آہستہ آہستہ اردگرد کے ماحول پر ردعمل کم ہوجاتا ہے اور پھر ایک ایسی گہری بے خبری کی کیفیت میں چلا جاتا ہے جسے طبی زبان میں موت سے پہلے کی آخری کیفیت کہا جاتا ہے۔

فوت ہوجانے والے عزیز دکھائی دیتے ہیں؟ 

 

موت سے پہلے انسان کیا محسوس کرتا ہے؟ برطانوی نرس نے 20 سالہ تجربہ بیان کر دیا

 

 

 

 

 

 

 

 

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور اس دوران خاندان کے افراد کو خوفزدہ ہونے کے بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ مریض ایک معمول کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ نرس نے بتایا کہ بعض مریض آخری دنوں یا گھنٹوں میں ایسی چیزوں کا ذکر کرتے ہیں جنہیں وہ اپنے تجربے کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔ بعض افراد اپنے انتقال کرجانے والے عزیزوں کو دیکھنے کا ذکر کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ کسی سفر یا آخری مہم پر جانے جیسی باتیں کرتے ہیں۔ پینی کے مطابق ایسے تجربات کو ہاسپس کیئر میں اکثر دیکھا جاتا ہے اور کئی مریض ان لمحات میں خوف کے بجائے سکون محسوس کرتے ہیں۔ پینی ہاکنز اسمتھ کا کہنا ہے کہ معاشرے میں موت کو اکثر ایک ممنوع موضوع سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس کے بارے میں کم جانتے ہیں اور خوف زیادہ محسوس کرتے ہیں۔

برازیل میں 150سال پرانے گھر کی تزئین کے دوران ہزاروں انسانی باقیات دریافت

 

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی تربیت عام طور پر زندگی بچانے اور اسے طویل کرنے پر مرکوز ہوتی ہے، اس لیے موت کو کبھی کبھی ناکامی کے طور پر دیکھا جاتا ہے حالانکہ یہ انسانی زندگی کا ایک فطری حصہ ہے۔نرس کے مطابق بہت سے خاندان یہ نہیں سمجھ پاتے کہ مریض کی زندگی کا وقت محدود ہو سکتا ہے۔ ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ مریض اور خاندان کو سمجھایا جائے کہ آخری مرحلے میں ہونے والی تبدیلیاں معمول کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کا تجربہ مختلف ہو سکتا ہے، تاہم شدید بیماری کے آخری مرحلے میں آنے والے بہت سے افراد میں کچھ علامات مشترک ہوتی ہیں، جیسے زیادہ نیند، کم ردعمل اور آہستہ آہستہ جسمانی کمزوری میں اضافہ شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات مریض آخری وقت میں اچانک چند لمحوں کے لیے مکمل ہوش میں آجاتا ہے، اپنے پیاروں سے گفتگو کرتا ہے، انہیں پہچانتا ہے اور پھر خاموشی سے دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ طب میں اس کیفیت کو بعض ماہرین “ٹرمینل لوسیڈیٹی” یا آخری لمحوں کی غیر معمولی ذہنی وضاحت سے تعبیر کرتے ہیں، تاہم اس حوالے سے بھی تحقیق ابھی جاری ہے اور اس کی مکمل وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ نرس کا کہنا ہے کہ معاشرے میں موت کو ایک ممنوع موضوع سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث لوگ اس پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ نتیجتاً جب خاندان کا کوئی فرد زندگی کے آخری مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو لواحقین ذہنی طور پر اس صورتحال کے لیے تیار نہیں ہوتے اور معمول کی علامات کو بھی غیر معمولی سمجھ لیتے ہیں۔

سعودی میوزیم میں400برس قدیم اسلامی جہاز رانی ورثے کا ریکارڈ محفوظ

 

انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے میں موت اور آخری نگہداشت کے بارے میں کھل کر گفتگو کی جائے تو لوگوں کے ذہنوں میں موجود بہت سے خوف خود بخود ختم ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق موت زندگی کا خاتمہ ضرور ہے، لیکن یہ زندگی کے فطری سفر کا ایک لازمی حصہ بھی ہے، جس سے ہر انسان کو گزرنا ہے۔ پینی ہاکنز اسمتھ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی تعلیم اور تربیت کا زیادہ تر زور زندگی بچانے، بیماری کا علاج کرنے اور مریض کی عمر بڑھانے پر ہوتا ہے، اس لیے بعض اوقات موت کو طبی ناکامی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر بیماری قابل علاج نہیں ہوتی اور ہر انسان کی زندگی کا ایک اختتام مقرر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہاسپس مراکز میں کام کرنے والے طبی عملے کی کوشش ہوتی ہے کہ مریض کو غیر ضروری تکلیف سے بچایا جائے، اس کا درد کم کیا جائے، اسے باوقار انداز میں آخری وقت گزارنے کا موقع دیا جائے اور اس کے اہل خانہ کو بھی ہر مرحلے پر رہنمائی فراہم کی جائے۔

طبی ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زندگی کے آخری مراحل میں مریض کے ساتھ نرمی، محبت اور احترام کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر مریض کم بول رہا ہو یا زیادہ تر وقت سویا رہے تو اسے بار بار جگانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگرچہ وہ جواب نہ دے سکے، لیکن ماہرین کے مطابق آخری وقت تک سماعت کسی حد تک برقرار رہ سکتی ہے، اس لیے اپنے پیاروں کی نرم آواز، دعائیں اور حوصلہ افزا باتیں مریض کے لیے باعث سکون بن سکتی ہیں۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مریض کے کمرے میں پرسکون ماحول برقرار رکھنا، غیر ضروری شور سے گریز کرنا، روشنی مناسب رکھنا اور خاندان کے افراد کا تحمل کے ساتھ موجود رہنا مریض کی ذہنی کیفیت پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ پینی کے مطابق ہر مریض کا تجربہ منفرد ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ ہر شخص ایک جیسے احساسات بیان کرے، تاہم گزشتہ کئی برسوں کے مشاہدات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آخری مرحلے میں آنے والے بہت سے افراد میں کچھ علامات مشترک ہوتی ہیں۔ ان میں زیادہ نیند آنا، کم ردعمل دینا، کھانے پینے میں کمی، جسمانی کمزوری کا بڑھ جانا، سانس لینے کے انداز میں تبدیلی، تھکن، خاموشی اور بعض اوقات انتقال کرجانے والے عزیزوں یا کسی سفر کا ذکر کرنا شامل ہے۔

نیند کی کمی اور کینسر کے درمیان تعلق ، نئی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف

 

انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر خاندان کے افراد ان علامات کو سمجھ لیں اور موت کو زندگی کے ایک قدرتی مرحلے کے طور پر قبول کریں تو وہ نہ صرف مریض کی بہتر انداز میں دیکھ بھال کرسکتے ہیں بلکہ اپنے عزیز کو محبت، احترام اور سکون کے ساتھ رخصت کرنے کے قابل بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ہمدردی، صبر اور درست معلومات ہی وہ عوامل ہیں جو زندگی کے اس مشکل ترین مرحلے کو مریض اور اس کے اہل خانہ کے لیے نسبتاً آسان بنا سکتے ہیں۔ پینی ہاکنز اسمتھ کے مطابق بعض مریض اپنے آخری ایام میں انتقال کر جانے والے عزیزوں کو دیکھنے یا ان کی موجودگی محسوس کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔ طبی ماہرین اس طرح کے تجربات کی مختلف ممکنہ تشریحات پیش کرتے ہیں، تاہم ان کی مکمل سائنسی وضاحت ابھی تک واضح نہیں ہو سکی

 

 

 

ہاتھی نے ایک ہی خاندان کے چار افراد کوڈھونڈ ڈھونڈ کر مار ڈالا

Previous Post
ایران پر حملے کے پس پردہ عزائم کیا تھے؟ امریکی میڈیا کا سنسنی خیز انکشاف