وفاقی وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں، خصوصاً افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو 10 جولائی 2026 سے کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق، ایسے تمام افغان شہری جو بغیر کسی قانونی دستاویز، درست ویزا یا قیام کی اجازت کے پاکستان میں موجود ہیں، انہیں 10 جولائی 2026 سے گرفتار کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکومت نے اس سلسلے میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، انسپکٹر جنرلز (آئی جیز)، اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے پلان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ 11 جولائی سے روزانہ کی بنیاد پر گرفتار کیے گئے افراد، جاری کارروائیوں اور پیش رفت کی تفصیلی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو ارسال کرنا لازمی ہوگی تاکہ کریک ڈاؤن کی نگرانی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔
حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی شناخت، گرفتاری اور قانون کے مطابق وطن واپسی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ اس حوالے سے سیکیورٹی، امیگریشن اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان قریبی رابطہ بھی برقرار رکھا جائے گا۔
جیو نیوز کیوں بند ہوا، اصل کہانی سامنے آگئی
وزارتِ داخلہ کے مطابق تمام متعلقہ ادارے روزانہ کی بنیاد پر اپنی کارکردگی رپورٹ کریں گے، جبکہ کریک ڈاؤن کی مجموعی نگرانی وفاقی سطح پر کی جائے گی۔
گوگل میپ نے خاندان اجاڑ دیا، کوئٹہ واقعے کی تفصیلات سامنے آگئیں

