خیبرپختونخوا حکومت مالی سال 2026-27 کا 21 کھرب 50 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ آج صوبائی اسمبلی میں پیش کرے گی، جس میں تعلیم، صحت، سیاحت، ماحولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق بندوبستی اضلاع کے جاری اخراجات کا تخمینہ 1545 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ ترقیاتی اخراجات کے لیے 426 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صوبے کی کل آمدنی کا تخمینہ 2305 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت کو وفاقی ٹیکسوں کی مد میں 1320 ارب روپے موصول ہونے کی توقع ہے، جبکہ صوبائی محاصل کے تحت ٹیکس وصولیوں کا ہدف 99 ارب روپے اور نان ٹیکس وصولیوں کا ہدف 51 ارب روپے مقرر کیا گیا
ہے۔ اسی طرح نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں 36 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
صحت کے شعبے کے لیے 276 ارب 54 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صحت کے بجٹ کا 82 فیصد حصہ جاری اخراجات جبکہ 18 فیصد حصہ نئے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ صوبے
میں صحت کے شعبے کے جاری 93 منصوبوں پر بھی فنڈز خرچ کیے جائیں گے۔
تعلیم کے شعبے کو بجٹ میں سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔ پرائمری اینڈ سیکنڈری تعلیم کے لیے 363 ارب روپے جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے 45 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ بندوبستی اضلاع میں طلبہ
کے داخلوں میں اضافے کے لیے 50 کروڑ روپے اور مفت درسی کتب کی فراہمی کے لیے 8 ارب 50 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ماحولیاتی منصوبوں کے تحت 2.2 ملین ہیکٹر رقبے پر شجرکاری اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے 50 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ میں کاربن کریڈٹ سے حاصل ہونے والی
آمدنی کا 40 فیصد حصہ مقامی آبادی کو دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
سیاحت کے فروغ کے لیے 12 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ عالمی بینک کے تعاون سے صوبے میں 50 لاکھ سیاحوں کو جدید سیاحتی سہولیات فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے لیے 321 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران مجموعی اخراجات 988 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 431 ارب روپے جاری کیے گئے۔ تخمینوں کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تنخواہوں کے اخراجات میں 13 فیصد اور پنشن کی مد میں 17 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
سی پیک سے 25.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، 2 لاکھ 61 ہزار ملازمتوں کی فراہمی
حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا حجم کم کرکے 444 ارب روپے تجویز کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بجٹ میں تعلیم، صحت، سیاحت اور ماحولیات کو ترجیح دینا صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے اہم قدم ہے، تاہم بڑھتے ہوئے جاری اخراجات اور ترقیاتی بجٹ میں کمی حکومت کے لیے مالی نظم و نسق کا بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔
سرحد چیمبر نے وفاقی بجٹ کو متوازن اورکاروبارو صنعت دوست قرار دیدیا

