سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی بجٹ 2026-27کومتوازن اور کاروبار دوست قر ا ر دیتے ہو ئے ا ْمید ظا ہر کی بجٹ تجا ویز معاشی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع میں اضافے اور نجی شعبے کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار اداکر ینگے۔
سرحد چیمبر کے صدر جنید الطاف نے گذشتہ تا جرو ں کے مختلف وفو دسے ملا قا ت کے دور ان ا ئند ہ سا ل کے وفا قی ما لیا تی بجٹ پر ر رعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ بجٹ میں متعدد مثبت تجا ویز پیش کی گئی ہیں جو کہ کا فی خو ش ا ئند ہے جس کے زر یعے برآمدی شعبے پر عائد سپر ٹیکس کے خاتمے، رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق ٹیکسوں میں 50 فیصد کمی، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف فراہم کرنے اور مختلف شعبوں کے لیے دی جانے والی مراعات شا مل ہیں ان اقدا ما ت کے نفا ذ سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
سرحد چیمبر کے صدر جنید الطاف نے ٹیکس نظام کے سہل و ا سا ن بنا نے، اضا فی ٹیکسو ں کے خا تمے،ٹیکس شر ح اور کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی،مزید لوگوں میں ٹیکس نیٹ میں لا نے سمیت کا رو با ر و تجا رت پا لیسیو ں کے نفاذ پر زور دیا ہے اور کہا بجٹ تجا ویز مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں اور ملکی معیشت کو استحکام کے مرحلے سے پائیدار ترقی کی جانب گامزن کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔سرحد چیمبر کے صدر جنید الطاف نے رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کیلئے اعلان کردہ مراعات کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ درجنوں ذیلی اور معاون صنعتوں سے منسلک ہے۔
اس شعبے کی بحالی سے سرمایہ کاری میں اضافہ، معاشی سرگرمیوں کا فروغ، روزگار کے نئے مواقع اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں مثبت اضافہ متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافے کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ پائیدار معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری اعتماد کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم ماحول ناگزیر ہے۔
سرحد چیمبرکے صدر جنید الطاف نے بجٹ کی مجموعی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طویل المدتی معاشی خوشحالی کا انحصار برآمدات کے فروغ، صنعتی ترقی، مقامی تجارت کے استحکام، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کی معاونت اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی پر ہے۔ بجٹ میں شامل مختلف اقدامات ان مقاصد کے حصول کے لیے ایک مثبت بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
سرحد چیمبرکے صدر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بجٹ کے ثمرات اسی صورت میں حاصل کیے جا سکتے ہیں جب پالیسیوں کے مؤثر نفاذ، ریگولیٹری استحکام، غیر دستاویزی معیشت کی دستاویز کاری، ٹیکس اصلاحات اور نجی شعبے سے مسلسل مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔ سرحد چیمبرکے صدر جنید الطاف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور حکومتی اقتصادی ٹیم کو ایک ایسا بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی جو معاشی نمو، سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع، برآمدات کے فروغ اور مالیاتی استحکام کے اہداف کے حصول کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
سرحد چیمبر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ حکومت اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایسی پالیسیوں کی حمایت جاری رکھے گا جو تجارت، صنعت، برآمدات، سرمایہ کاری اور قومی معیشت کی پائیدار ترقی کو فروغ دیں۔اس مو قع صدر جنید الطاف نے بجٹ کے خا میو ں کو دور کر نے کے حوا لے سے تجا ویز پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ فیڈر ل بور ڈ ا ف ریوینو کی جا نب سے ٹیکس قو انین پر نظر ثا نی کر تے کاروبارو تجارت دوست بنانے
بالخصو ص ڈیجیٹل انفور سیمنٹ اور ایف بی آ ر کے لا محدود اختیار ات پر بزنس کمیو نٹی کے تحفظا ت کو دور کر نے کے لئے اقدا مات کئے جا ئیں۔ صدر جنید الطاف نے حکو مت کی جا نب سے چھو ٹے تا جر کیلئے فکسڈ ٹیکس اسیکم کے اجر اء کے حوالے سے ا ظہا ر خیا ل کرتے ہوئے مذکورہ ٹرن ا وور پر 1 فیصد فکسڈ ٹیکس کی بہت زیا دہ ہے اس پر بھی نظر ثا نی کی جا ئے تا کہ اس سکیم آسا ن و سہل بنا یا جا ئے
جس کے تحت چھو ٹا تا جر آسا نی کے سا تھ ٹیکس ا دا کر سکے اور مذکورہ اسکیم مو جو دہ ٹیکس بیس کو و سیع کر نے کیلئے مد دگار ثا بت ہو ۔
سرحد چیمبر نے سی این جی بندش کا حکومتی فیصلہ مسترد کردیا

