ملک میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ، سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کمپنیوں نے یکم جولائی سے گیس مہنگی کرنے کے لئے باضابطہ درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سوئی سدرن کمپنی (ایس ایس جی سی ) نے گیس قیمت میں اوسطا 5306 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک اضافے کا مطالبہ کیا ہے
اور گیس قیمت میں 29 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی درخواست دی ہے، کمپنی نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے 956 ارب روپے مانگے ہیں، اور آئندہ مالی سال کے شارٹ فال کی مد میں 411 ارب روپے مانگے۔دستاویزات کے مطابق گیس کمپنیوں نے خسارے کی مد میں 1650 ارب روپے شارٹ فال کا تخمینہ لگایا ہے،
اور سابق شارٹ فال کی مد میں مجموعی طور پر 545 ارب روپے مانگے گئے ہیں۔ سابق شارٹ فال سمیت سوئی سدرن نے 1279 ارب روپے ریونیو ضرویات کی درخواست کی ہے، کمپنی نے 42 ارب روپے ایل این جی سروس کی لاگت میں بھی مانگے، اور درخواست کی ہے کہ اوسط قیمت میں 5306 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا جائے، اور اوسط قیمت 6855 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی جائے۔
دوسری جانب سوئی ناردرن پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل )نے بھی قیمتوں میں اضافے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) میں درخواست جمع کرا دی ہے۔ کمپنی نے اوسط قیمت 1784.50 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی درخواست کی ہے اور آئندہ مالی سال 8 ارب 73 کروڑ روپے ریونیو شارٹ فال کا تخمینہ لگایا ہے۔سوئی ناردرن نے گزشتہ شارٹ فال کی مد میں 585 ارب روپے کا تخمینہ پیش کیا ہے،
اور ایل این جی سروس لاگت کی مد میں بھی 67 ارب 67 کروڑ مانگے ہیں، کمپنی نے ایل این جی سروس لاگت میں 376 روپے 33 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو وصولی کی درخواست دائر کی۔ اوگرا سوئی ناردرن کی درخواست پر 21 اپریل کو جب کہ سوئی سدرن کی درخواست پر 22 اپریل کو سماعت کرے گی، جس کے بعد نئی قیمتوں سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
Q&A
گیس کی قیمتوں میں اضافہ کب متوقع ہے؟
یکم جولائی سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گیس مہنگی کیوں کی جا رہی ہے؟
بڑھتے ہوئے اخراجات، درآمدی قیمتوں اور توانائی کے بحران کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
اس اضافے سے کون متاثر ہوگا؟
گھریلو صارفین، کمرشل صارفین اور صنعتیں سب متاثر ہوں گی۔
ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی، خطرات و آفات کا الرٹ جاری

