Skip to main contentSkip to footer

ایران نے غیر دشمن جہازوں کو گزرنے کی مشروط اجازت دیدی

Iran Allows Conditional Airspace Passage

ایران نے غیر دشمن جہازوں کو گزرنے کی مشروط اجازت دیدی

ایران نے اعلان کیا ہے کہ غیر معاندانہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی اجازت دی جائے گی، بشرطیکہ وہ ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں شامل نہ ہوں اور طے شدہ سکیورٹی ضوابط پر عمل کریں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز متعلقہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں۔ تاہم ایران نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان ضوابط کی مکمل تفصیلات کیا ہوں گی۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریبا 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اس راستے پر جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جہاں جنگ سے پہلے روزانہ اوسطا 120 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، اب یہ تعداد کم ہو کر چند جہازوں تک محدود ہو گئی ہے۔ پیر کے روز صرف 5 جہازوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی،

جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے اور اگر آبنائے ہرمز عملی طور پر بند رہی تو تیل کی قیمت 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ تہران اس سے قبل ایسے دعوں کی تردید کر چکا ہے۔

دوسری جانب ممکنہ امن معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی مارکیٹ میں کچھ بہتری بھی دیکھی گئی ہے، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ ہوا جبکہ برنٹ کروڈ آئل کی قیمت میں بھی وقتی کمی ریکارڈ کی گئی۔

طورخم بارڈر کھولنے کا فیصلہ، ناصر باغ کیمپ سے انخلا کا کل سے آغاز

Previous Post
جاپان سے نصف مچھلی اور نصف انسانی مخلوق کی باقیات دریافت