سائنسدانوں نے چمگادڑوں کے وائرسز سے نمٹنے کیلئے مچھر تیار کرلئے
چینی سائنسدانوں نے ویکسین لے جانے والے نئے مچھر تیار کئے ہیں جو چمگادڑوں کو کاٹ کر انہیں ریبیز کے خلاف مدافعت فراہم کر سکتے ہیں۔اس حکمتِ عملی سے ایسے وائرسز کو جانوروں سے انسانوں تک منتقل ہونے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے جو مستقبل میں وبا کا سبب بن سکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق چمگادڑوں کو طویل عرصے سے ریبیز اور نیپاہ وائرسز جیسے خطرناک وائرسز کا ذخیرہ سمجھا جاتا ہے،
اسی وجہ سے وہ ان اہم ذرائع میں شامل ہیں جہاں سے وائرس جانور سے انسان میں منتقل ہونے کے واقعات(یعنی اسپل اوور) پیش آتے ہیں۔اگرچہ چمگادڑوں کو ویکسین دینا ان وائرسز کے انسانوں تک پھیلا ئوکو روکنے کا ایک موثر طریقہ ہو سکتا ہے، لیکن جنگلوں میں بڑی تعداد میں موجود چمگادڑوں کو ویکسین دینے کیلئے اب تک کوئی موثر حکمت عملی موجود نہیں تھی۔
اب ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کے سائنسدانوں نے ویکسین سے لیس مچھروں اور نمکیاتی (سالین) جالوں کا استعمال کرتے ہوئے چمگادڑوں میں ریبیز اور نیپا وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔محققین کے مطابق اس طریقے کو ماحولیاتی ویکسینیشن کہا جاتا ہے، جو زیادہ محفوظ اور موثر ہے کیونکہ اس میں جانوروں کو پکڑنے یا براہِ راست سنبھالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

