وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم امریکہ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں۔
فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹیفن ملر نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ فوری معاہدے کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکہ کی جانب سے ایران پر دبا ئوکے آپشنز بھی برقرار ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں، وہ ایک معاہدہ چاہتے ہیں، وہ درست راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، تاہم امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا اس کی کوشش کرنے کی اجازت نہیں دے گا
ان کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندی سمیت ہر آپشن میز پر موجود ہے کیونکہ صدر ٹرمپ دنیا کے عوام کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم حتمی نتیجہ چاہتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کے بعد اکانومک فیوری کی مہم کے تحت معاشی پابندیاں عائد کردیں۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیاں 3شخصیات اور 17اداروں پر عائد کی گئیں، ایران پر نئی پابندیاں انسداد دہشتگردی سے متعلق ہیں۔
امریکہ کی ایران کو یورینیم معاہدے کے بدلے 20ارب ڈالر کی پیشکش
امریکی محکمہ خزانہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ سے منسلک ایک پیچیدہ مالیاتی منصوبے سے وابستہ اہداف پر بھی پابندیاں لگائی ہیں۔ یہ منصوبہ مبینہ طور پر سونے کے تبادلہ مراکز کے گرد ترتیب دیا گیا تھا اور اس سے بالآخر ایران کے فوجی نظام کو فائدہ پہنچتا ہے۔امریکی عہدیداروں کے مطابق اس منصوبے میں سونے کے ذخائر کو نقد رقم میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد تجارتی اور ترسیلی نیٹ ورکس کے ذریعے پابندیوں سے بچتے ہوئے حزب اللہ کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔
ادھر وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود کہ دیگر ممالک بھی فوجی کارروائی میں شامل ہوں گے، تاحال کوئی ملک شامل نہیں ہوا۔وائٹ ہائو س کے مطابق آپریشن مکمل طور پر کامیابی سے جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک مختصر اور نجی عشائیے کے دوران صدر ٹرمپ نے نیدر لینڈز کے بادشاہ اور ملکہ کو بتایا کہ میں ایران میں جاری جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتا ہوں۔عشائیے پر جن عہدیداروں کو بریفنگ دی گئی،
ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے شاہی مہمانوں اور ڈچ حکام کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کا واحد طریقہ اس پر دبا ئومیں اضافہ کرنا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا نے ایران پر دبا بڑھانے کے لیے مشرقِ وسطی میں مزید ہزاروں فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا خطے میں ہزاروں فوجی بھیجنے کا مقصد ایران پر معاہدہ کرنے کے لیے دبائو ڈالنا ہے۔
حکومت نے ڈیڑھ ماہ میں عوام سے 180 ارب روپے ہتھیا لئے
Q&A
امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں کیوں عائد کی ہیں؟
مختلف سیاسی اور معاشی وجوہات کے باعث امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں لگائی ہیں۔
ان پابندیوں کا ایران کی معیشت پر کیا اثر ہوگا؟
ان پابندیوں سے ایران کی تجارت، بینکاری اور معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
کیا یہ پابندیاں پہلے بھی لگائی گئی تھیں؟
جی ہاں، امریکہ پہلے بھی ایران پر مختلف پابندیاں عائد کرتا رہا ہے۔
عالمی سطح پر اس کا کیا اثر ہوگا؟
اس سے عالمی منڈی اور خطے کی صورتحال پر اثر پڑ سکتا ہے۔
