Site icon bnnwatch.com

ایران معاہدے پر فیصلہ نہ ہو سکا، امریکہ کی دوبارہ جنگ شروع کرنے کی تصدیق

ٍایران معاہدے پر فیصلہ نہ ہو سکا، امریکہ کی دوبارہ جنگ شروع کرنے کی تصدیق

امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے پاس ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کرنے کے وسائل موجود ہیں اور وائٹ ہائوس نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کے ساتھ اس وقت تک کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جب تک کہ وہ ان کی تمام شرائط پر پورا نہیں اترتا۔

غیرملکی خبرررساں ادارے کے مطابق دوبارہ جنگ کی یہ پیش رفت مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لینے والے اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دینے والے تنازع کے آغاز کے تین ماہ بعد سامنے آئی ۔وائٹ ہائوس نے بتایا تھا کہ پاکستانی ثالثی میں جاری مذاکرات کے بارے میں ہفتوں کے متضاد بیانات اور رپورٹوں کے بعد، ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔

تاہم وائٹ ہائوس کے آپریشنز روم میں اپنے معاونین کے ساتھ ہونے والے دو گھنٹے کے اجلاس کے بعد ٹرمپ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔اجلاس کے خاتمے کے بعد وائٹ ہائوس کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرمپ کوئی بھی ایسا معاہدہ قبول نہیں کریں گے جو امریکہ کے مفاد میں نہ ہو اور ان کی سرخ لکیروں پر پورا نہ اترتا ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

دوسری طرف امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ آپریشن شروع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ دفاعی فورم میں شرکت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ہمارے ذخائر اس کے لیے موزوں ہیں، خواہ وہ ملکی سطح پر ہوں یا دنیا کے دیگر حصوں میں، کیونکہ ہم نے ہائی ٹیک اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے دیگر گولہ بارود کے درمیان توازن برقرار رکھا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی مرکزی کمان نے ایکس پر تصدیق کی کہ امریکی افواج پوری ہنگامی تیاری کے ساتھ خطے میں موجود ہیں۔اس سے قبل ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں دھمکی دی کہ ایران کو اس بات پر راضی ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا جوہری بم حاصل نہیں کرے گا۔ اور آبنائے ہرمز کو دونوں طرف سے بلا روک ٹوک جہاز رانی کے لیے فوری طور پر بغیر کسی ٹیکس کے کھولا جانا چاہیے اور تمام بحری بارودی سرنگوں کو ختم کر دیا جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکی محاصرے کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہاز حرکت میں آئیں گے۔ انھوں نے واضح کیا کہ یہ محاصرہ اب اٹھا لیا جائے گا۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ قریبی ہم آہنگی اور تعاون سے افزودہ مواد نکالے گا اور اسے تلف کر دیا جائے گا اور اگلے حکم تک کسی قسم کی رقم کا تبادلہ نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

آبنائے ہرمز سے پاکستان اور چین کے دو جہاز گزر گئے

 

تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی نے با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ سمجھوتے کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات سچ اور جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے

لیکن ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایاگیا کہ تہران ایران کے منجمد اثاثوں سے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کی شرط رکھتا ہے… اور جب تک یہ ادائیگی نہیں ہو جاتی

ایران مذاکرات کے کسی اگلے مرحلے میں داخل نہیں ہو گا۔جہاں تک بغیر کسی ٹیکس کے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے کا تعلق ہے، تو ذرائع نے کہا کہ معاہدے کے متن میں اس قسم کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی جوہری مواد کی تلفی بھی متن میں شامل نہیں ہے۔بقائی نے اس بات پر زور دیا کہ اس مرحلے پر ہماری توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے اور جوہری معاملے پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔

جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کو اس ہفتے اس وقت دھچکا لگا جب دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جو 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک کا سنگین ترین واقعہ تھا۔

Exit mobile version