Site icon bnnwatch.com

امریکہ نے ایران کی جانب ایک اور بحری بیڑہ روانہ کردیا

US Iran Naval Escalation

امریکہ نے ایران کی جانب ایک اور بحری بیڑہ روانہ کردیا

ایران سے کشیدگی کے پیش نظر امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ایران کی جانب ایک اور بحری بیڑہ روانہ کردیا۔

امریکہ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری طاقت مزید بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق طیارہ بردار بحری بیڑہ “ابراہم لنکن” بھیجنے کے بعد دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار “یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ” ایران کی جانب روانہ کیا گیا ہے۔

 امریکا کی اس پیش رفت کا مقصد صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے دباؤ میں لانے کی کوششوں کو تقویتدینا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مسقبل قریب میں بڑی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، حملے کی صورت میں پاکستان اور چین کیلئے بھی خطے میں مسائل بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے

چند روز قبل ٹرمپ نے یہ عندیہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور شروع ہوسکتا ہے تاہم اس کی عملی پیش رفت سامنے نہیں آسکی تھی۔

اسی دوران تہران کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے اس ہفتے عمان اور قطر کا دورہ کیا جہاں امریکی ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا۔

واضح رہے کہ یہ طیارہ بردار جہاز جوہری توانائی سے چلتا ہے اور امریکی بحریہ سے وابستہ ہے جسے 2017میں فعال کیا گیا تھا۔ اسے “جیرالڈ آر فورڈ” کلاس کے جہازوں میں صفِ اول کی حیثیت حاصل ہے۔اس کا وزن ایک لاکھ ٹن سے زیادہ جبکہ لمبائی 337 میٹر ہے۔

برطانوی انسائیکلوپیڈیا “بریٹانیکا” کے مطابق یہ دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا بحری بیڑہ ہے۔ اس میں عملے اور ایئر ونگ سمیت تقریباً 4600 افراد کی گنجائش موجود ہے۔

یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ دو جوہری ری ایکٹرز، الیکٹرومیگنیٹک ایئر کرافٹ لانچ سسٹم، ایڈوانسڈ اریسٹنگ گیئر اور ڈوئل بینڈ راڈار کے ذریعے کام کرتا ہے۔

بحری بیڑے کی ساخت اور پاور پلانٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ اپنی 50 سالہ سروس کے دوران نئے سسٹمز بشمول ڈائریکٹڈ انرجی ویپنز کو  ایڈجسٹ کرسکے۔ عالمی برادری نے دونوں ممالک کے دوران مذاکرات کو اولین ترجیح دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی جنگ خطے کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اسلئے دونوں ممالک سنجیدگی سے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں

Exit mobile version