جنگ بندی معاہدے اور مفاہمتی یادداشت کے باوجود امریکا نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں فضائی کارروائی کرتے ہوئے ایران میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے مطابق فضائی کارروائی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون ذخائر کے علاوہ ساحلی ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
فوجی اہداف پر یہ حملے آج صبح 25 جون کو سنگاپور کے تجارتی جہاز پر ہونے والے مبینہ ڈرون حملے کے ردعمل میں کیے گئے ہیں، سینٹ کام نے مزید کہا کہ تجارتی جہاز پر ایرانی حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، خطے میں استحکام اور محفوظ بحری نقل و حمل کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
امریکی فوج نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سنگاپور کے پرچم بردار ایک مال بردار جہاز پر جمعرات کے روز ہونے والے ڈرون حملے کے پیچھے پاسداران انقلاب کا ہاتھ تھا۔ یہ جہاز آبنائے ہرمز سے نکل رہا تھا۔ یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز مرکز کے مطابق، ڈرون حملے میں عمان کے ساحل سے چند میل دور جہاز کے پل کو نقصان پہنچا۔
بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم (آئی ایم او) نے کہا ہے کہ فوجی اہداف پر اس حملے کے بعد اس خطے میں جہازوں کے انخلا سے متعلق اپنی کارروائی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے ’’مستقبل کے انتظامی ڈھانچے‘‘ پر مذاکرات متوقع ہیں جبکہ لبنان میں جاری فضائی کاررائیوں کے حوالے سے بھی ایران کو تحفظات ہیں اور امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو فضائی حملے بند کرنے کا پابند بنانا ہوگا۔
گلگت ، چوٹی سر کرتے ہوئے فرانسیسی کوہ پیما تودے کی زد میں آکر ہلاک
آواز سے 5 گنا تیز طیارہ، ہوا بازی کی دنیا میں نئی دوڑ شروع
