ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ سفارتی رابطوں میں امریکا کی طرف سےجنگ بندی کیلئے بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا گیا جسے انہوں نے ”اہم پیشرفت” قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ ایران ہمیشہ باعزت اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔دوسری جانب امریکی حکام نے اس دعوے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم ماضی میں امریکا یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سرگرمیوں پر جنگ بندی کیلئے بات چیت کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ ایسے بیانات اکثر سفارتی دباؤ بڑھانے یا اپنی پوزیشن مضبوط دکھانے کیلئے بھی دیے جاتے ہیں، خاص طور پر جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوں۔
مزید پیشرفت کیلئے دونوں جانب سے باضابطہ بیانات اور سفارتی اقدامات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔تاہم امریکی حکام کی خاموشی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ امریکہ نے جنگ میں ہونیوالے اخراجات کے باعث سینیٹ میں دبائو کو دیکھتے ہوئے ایران کو باضابطہ طور پر جنگ بندی کیلئے درخواست کردی ہے اور بال ایران کے کورٹ میں ہے کہ آیا ایران اس درخواست کو سنجیدگی سے لے کر اسلام آباد میں ہونیوالے اگلے ممکنہ مذاکراتی دور میں شرکت کرتا ہے یا آئندہ بھی شرائط رکھ کر امریکہ کو مذاکرات سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
جنگ کے حوالے سے مزید خبریں پڑھیں
ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کیلئے تین دن کی ڈیڈلائن دیدی

