امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کی درخواست پر ایران کے خلاف ممکنہ بڑے فوجی حملے کو موخر کرتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع کردی ہے جنگ بندی مذاکرات کے اختتام تک جاری رہے گی، جنگ بندی پاکستان کے فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے ممکن ہوئی ہے
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بات چیت کے اختتام تک جنگ بندی میں توسیع کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کو فی الحال روک دیا گیا ہے، تاہم امریکی افواج کو گھیراؤ جاری رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کی موجودہ صورتحال کمزور دکھائی دیتی ہے، لیکن عالمی سطح پر یہ رائے سامنے آئی ہے کہ فوری حملے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اسی لیے ایران کو موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی تجاویز پیش کرے اور بات چیت کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی میں توسیع اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کی جانب سے واضح مؤقف سامنے نہیں آتا اور بات چیت کسی نتیجے تک نہیں پہنچتی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایرانی وفد کے اسلام آباد جانے کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے امریکی بحری گھیراؤ، ایرانی جہازوں پر کارروائی اور صدر ٹرمپ کے بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے بات چیت میں سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا، تاہم امریکی حکام کی جانب سے غیر سنجیدہ رویہ دیکھنے میں آیا جس سے اعتماد کی فضا متاثر ہوئی ہے۔
جنگ بندی کے باوجود نہ صرف لبنان پر بمباری جاری ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی کی گئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ مذاکرات کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے پر دشمن کیلئے حیران کن سرپرائز تیار کررکھا ہے امریکہ جنگ سے تھک چکا ہے اور مالی لحاظ سے کمزور ہوچکا ہے جبکہ ٹرمپ اور یاہو دونوں کو اپنے اپنے ممالک میں شدید دبائو اور مخالفت کا سامنا ہے
جسکی وجہ سے اب دونوں جنگ سے راہ فرار چاہتے ہیں لیکن ایران کئی برسوں تک لڑنے کی تیاری کرچکا ہے اور اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو خطے میں امریکی تمام تنصیبات کو پہلے سے زیادہ نقصان پہنچایا جائیگا جبکہ اسرائیل کا پورا انفرسٹرکچر تباہ کرنے کی بھی صلاحیت حاصل کرلی ہے
دوسری جانب 63فیصد امریکی شہری ٹرمپ کی پالیسیوں کے مخالف ہوگئے،مقبولیت میں کمی آگئی ہے
امریکہ میں حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے نالاں ہے۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے سروے رپورٹ کے مطابق 63 فیصد امریکی شہری صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے مخالف ہیں، جبکہ ان کی مجموعی مقبولیت کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی دوسری مدت کے دوران سب سے کم سطح ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوجوان طبقہ بھی ٹرمپ کی پالیسیوں سے خاصا نالاں ہے۔ 30
سال سے کم عمر 74 فیصد افراد ایران پر مزید امریکی حملوں کے خلاف ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگی پالیسیوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں۔سروے کے مطابق 66 فیصد امریکی شہریوں نے ایران سے متعلق جنگی صورتحال اور ملکی معیشت، خاص طور پر مہنگائی پر قابو نہ پانے پر ٹرمپ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ملک کی مجموعی صورتحال پر رائے دیتے ہوئے صرف 33 فیصد افراد نے کہا کہ امریکا درست سمت میں جا رہا ہے، جبکہ 66 فیصد کا خیال ہے کہ ملک غلط سمت میں بڑھ رہا ہے۔مہنگائی کے مسئلے پر بھی عوام کی اکثریت غیر مطمئن نظر آئی۔
ایران نے امریکہ کیساتھ مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کردیا
صرف 32 فیصد امریکی شہریوں نے ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کو درست قرار دیا، جبکہ 68 فیصد نے ان پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔تاہم سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ ریپبلکن پارٹی کے ووٹرز میں ٹرمپ کی حمایت اب بھی خاصی مضبوط ہے، جہاں 83 فیصد افراد ان کے حامی ہیں، اگرچہ اس حمایت میں جنوری اور فروری کے مقابلے میں 4 فیصد کمی آئی ہے۔ مجموعی طور پر ٹرمپ کی حمایت کرنے والوں کی شرح بھی کم ہو کر 58 فیصد سے 52 فیصد پر آ گئی ہے۔
تاہم ٹرمپ میں حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان جلد یا بدیر ایک بڑے معاہدے کی امید نظر آرہی ہے ، دونوں ممالک بالآخر ایک عظیم ڈیل تک پہنچ جائیں گے۔امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے، میرے خیال میں ہم ایک بہترین معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔
امریکا نے ایران کی قیادت اور ان کی فوجی صلاحیت کو ختم کردیا ہے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے صورتحال ایک طرح سے پیچیدہ ضرور ہوئی لیکن ایران کی نئی قیادت زیادہ معقول ہو سکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ عمل دراصل رجیم چینج کے مترادف ہے چاہے اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے حالانکہ رجیم چینج صدر ٹرمپ کے ابتدائی وعدوں میں شامل نہیں تھا۔
ہم نے اس وقفے (2 ہفتوں کی جنگ بندی) کو اپنی تیاری بڑھانے کے لیے استعمال کیا اور ممکن ہے ایران نے بھی کچھ حد تک ایسا کیا ہو۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہماری فوج پوری طرح تیار، متحرک اور بے تاب ہے کہ حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردے۔ گن لوڈڈ ہیں۔تاہم انھوں نے ایک بار پھر اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ ایک عظیم ڈیل پر ہوگا۔
یو اے ای نے امریکا کو ڈالر کی جگہ چینی کرنسی اپنانے کی دھمکی دیدی
Q&A
جنگ بندی میں کس نے توسیع کی ہے؟
امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں مزید توسیع کی ہے۔
کیا امریکہ نے حملے مکمل طور پر روک دیئے ہیں؟
جی ہاں، رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران پر حملے روک دیئے ہیں۔
اس فیصلے کا مقصد کیا ہے؟
مقصد کشیدگی کم کرنا اور امن کو برقرار رکھنا ہے۔
کیا یہ جنگ بندی مستقل ہے؟
فی الحال یہ عارضی توسیع ہے، مستقبل میں مزید فیصلے ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل کے مختلف شہروں پر لاکھوں شہد کی مکھیوں کا حملہ، ہوائی جہاز ناکارہ
