مجتبی خامنہ ای کے پہلے پیغام کے بعد ٹرمپ آگ بگولا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مجتبی خامنہ ای کے پہلے پیغام کے بعد آگ بگولا ہوگئے اور ایران کو شرپسند سلطنت کہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای زندہ ہیں مگر ڈیمیجڈ ہو چکے ہیں۔
ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اہم ہے، تہران دنیا کو تباہ کر سکتا ہے اور میں ایسا نہیں ہونے دوں گا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا دنیا میں سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لئے جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہم بہت زیادہ پیسہ کماتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای زندہ ہیں مگر ڈیمیجڈ ہو چکے ہیں
تاہم کسی طور زندہ ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ مجتبی خامنہ ای اور ایران کے دیگر رہنماں کی کوئی لائف انشورنس نہیں دیں گے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کیخلاف جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران اب پہلے جیسا ایران نہیں رہا، ایرانی سکیورٹی اداروں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کو اپنے جوہری اور بیلسٹک منصوبوں کو زیرِ زمین منتقل کرنے سے روکنا ہے،
مجتبی خامنہ ای عوام میں سامنے نہیں آ سکتے اور وہ پاسداران انقلاب کے زیر اثر ہیں۔نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل ایران میں نظام کی تبدیلی کیلئے حالات پیدا کر سکتا ہے لیکن حتمی فیصلہ ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے، میں ہر روز ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔
اسرائیل نے اپنے دشمنوں کے خلاف اہم فوجی اہداف حاصل کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی دفاعی صلاحیت اور فوجی طاقت پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھاتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے خطے میں اپنی دفاعی صلاحیت یعنی دشمن کو حملے سے روکنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔
