امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران شدید تلخی دیکھنے میں آئی جس میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’’پاگل‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اسرائیل لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ ان کے اقدامات خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم سے کہا کہ وہ ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو نہ صرف خطے کے امن بلکہ امریکہ کی سفارتی کوششوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ کا لہجہ غیر معمولی طور پر سخت تھا اور انہوں نے نیتن یاہو کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔
امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ خاص طور پر لبنان میں اسرائیلی حملوں اور بیروت کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں پر ناراض تھے۔ انہوں نے اسرائیلی قیادت پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کرے اور ایسے اقدامات سے باز رہے جو جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کر سکتے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ مسلسل فوجی کارروائیاں عالمی سطح پر اسرائیل کے لیے مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں اور اس سے امریکہ کی خارجہ پالیسی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان رپورٹس کی مکمل تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ تاہم اسرائیلی اور بین الاقوامی میڈیا میں اس غیر معمولی گفتگو کو دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں حالیہ عرصے کی سب سے بڑی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر میڈیا رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کے درمیان موجود قریبی تعلقات کے باوجود اہم پالیسی اختلافات کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
ادھر امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ عالمی برادری بھی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دے رہی ہے دوسری جانب عوامی حلقوں نے اس گفتگو کو محض ڈھونگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ملے ہوئے ہیں، صبح ایک بات کہتے والے شام کو اکٹھے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے پر ظاہری تنقید کرنے والے اصل میں ایک سکے کے دو رخ ہیں
دونوں معصوم مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہیں اور عالمی عدالت میں دونوں پر مقدمہ چلا کر انہیں سزائے موت دینی چاہئے
