Skip to main contentSkip to footer

ٹرمپ نے مذاکرات میں الجھا کر ایران پر زمینی حملوں کا منصوبہ بنا لیا

Trump Iran ground attack plan

امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی آڑ میں الجھا کر ایران پر زمینی حملوں کا منصوبہ بنا لیا ہے جبکہ ہزاروں امریکی فوجی پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ  کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے۔ پہلا آپریشن ایران کے اہم تیل بردار مرکز خارگ جزیرے پر قبضے کے لیے ہوگا جبکہ دوسرا آپریشن افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے مقصد سے کیا جائے گا۔رپورٹ  میں بتایا گیا ہے کہ امریکا پہلے ہی ساڑھے تین ہزار میرینز اور نیول اہلکار خطے میں تعینات کرچکا ہے،

جبکہ آئندہ ہفتوں میں مزید ساڑھے تین ہزار فوجیوں کی آمد متوقع ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھ جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ مکمل حملے سے کم درجے کا ہے، تاہم اس کے دوران امریکی اہلکاروں کو ایرانی ڈرونز، میزائلوں، زمینی فائرنگ اور بارودی سرنگوں جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔وائٹ ہائوس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ پینٹاگون کا کام مختلف آپشنز تیار کرنا ہے

تاکہ صدر کو فیصلے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کوئی حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق خارگ جزیرے پر قبضہ ایران کے لیے شدید معاشی دھچکا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام سے ایران کے فوجی آپریشنز کے لیے دستیاب مالی وسائل بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر قدم رکھنا ایک نہایت خطرناک اور پیچیدہ مشن ہوگا۔رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی آپریشن سے نہ تو ایران کی حکومت گرے گی اور نہ ہی آبنائے ہرمز کھلنے کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔رپورٹ میں مزید   کہا گیا ہے کہ اگر امریکا نے زمینی کارروائی کی تو یہ جنگ جلد ختم ہونے کے بجائے طویل ہوسکتی ہے اور اسے ہفتوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا۔

 

آؓبنائے ہرمز سے پاکستان کے جہاز بھی گزرگئے، 28 دن کا سٹاک بھی موجود، پھر قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں؟

Next Post
بنوں ڈومیل میں خود کش حملہ، ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید
Previous Post
آؓبنائے ہرمز سے پاکستان کے جہاز بھی گزرگئے، 28 دن کا سٹاک بھی موجود، پھر قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں؟