طورخم بارڈر کھولنے کا فیصلہ، ناصر باغ کیمپ سے انخلا کا کل سے آغاز
وفاقی حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے طورخم بارڈر کو دوبارہ کھولنے پر غور شروع کر دیا ہے، جس کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کا عمل تیز کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق افغان حکام کی درخواست پر بارڈر کل سے کھولنے کا قوی امکان ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر بارڈر صرف غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کھولا جائے گا اور اس عمل کو مکمل طور پر منظم اور مرحلہ وار طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں بارڈر حکام، سیکیورٹی اداروں اور ضلعی انتظامیہ نے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی بدانتظامی یا سیکیورٹی خدشات سے بچا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے ساتھ ہی پاکستانی جیلوں میں قید تقریباً 2000 افغان قیدیوں کو بھی افغانستان واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ قیدی مختلف نوعیت کے مقدمات میں گرفتار تھے، تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے تحت انہیں واپس اپنے ملک منتقل کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔
ادھر ناصر باغ کیمپ سے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل بھی جلد شروع ہونے جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق کیمپ میں موجود افغان شہریوں کی رجسٹریشن مکمل کر لی گئی ہے اور واپسی کے لیے ٹرانسپورٹ، سیکیورٹی اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ مہاجرین کو باعزت اور محفوظ طریقے سے ان کے وطن واپس بھیجا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر پر خصوصی کاؤنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں افغان باشندوں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس کے علاوہ طبی سہولیات، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کا بھی بندوبست کیا گیا ہے تاکہ واپسی کے دوران کسی کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ فیصلہ پاکستان میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہےجس کا مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور وسائل پر دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس مہم کے تحت پہلے بھی ہزاروں افغان باشندے رضاکارانہ طور پر واپس جا چکے ہیں، جبکہ اب اس عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب افغان حکام نے پاکستان کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے مکمل تعاون کریں گے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ واپس آنے والے افراد کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں اپنے ملک میں دوبارہ بسنے میں آسانی ہو۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بارڈر کھولنے کے فیصلے کے بعد اضافی نفری تعینات کی جائے گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ حساس مقامات پر نگرانی کا نظام بھی مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بارڈر کھولنے کا فیصلہ مکمل طور پر عارضی اور مخصوص مقصد کے لیے ہوگا، اور اسے عام آمدورفت کے لیے فوری طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آنے کی توقع ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں بھی استحکام پیدا ہوگا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واپسی کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ کسی بھی انسانی بحران سے بچا جا سکے۔
عوامی حلقوں کی جانب سے بھی اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مقیم افراد کی واپسی ضروری ہے، جبکہ کچھ حلقے انسانی ہمدردی کے تحت مہاجرین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ حتمی منظوری کے بعد ہی افغان باشندوں کی واپسی کا باقاعدہ عمل شروع ہوگا، اور اس حوالے سے جلد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ اس عمل کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
مجموعی طور پر یہ اقدام پاکستان کی امیگریشن پالیسی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ خطے کی صورتحال پر بھی مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے عملی نفاذ اور اس کے نتائج پر سب کی نظریں مرکوز ہوں گی۔
