طورخم بارڈر فائرنگ کے بعد بند، مہاجرین کی واپسی روک دی گئی
پاک افغان سرحد پر کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں پاکستانی حکام نے طورخم بارڈر کو مہاجرین کی واپسی سمیت ہر قسم کی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ بند کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سرحد کے قریب اول خان پوسٹ پر افغان سائیڈ سے اچانک سنائپر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے نائب صوبیدار شیر ذادہ شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب بارڈر پر معمول کے مطابق آمد و رفت اور مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری تھا۔ افغان سائیڈ سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور حکام نے فوری طور پر سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے بارڈر کراسنگ کو بند کر دیا۔
حکام کے مطابق طورخم بارڈر کی بندش کے باعث نہ صرف مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل متاثر ہوا ہے بلکہ تجارتی سرگرمیاں بھی مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔ سینکڑوں افراد جو سرحد عبور کرنے کے منتظر تھے، وہ پھنس کر رہ گئے ہیں جبکہ مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں بھی بارڈر کے دونوں اطراف کھڑی ہو گئی ہیں۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ صورت حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور افغان حکام سے رابطہ بھی کیا گیا ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ تاہم جب تک حالات معمول پر نہیں آتے، بارڈر بند ہی رہے گا۔
واضح رہے کہ طورخم بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ ہزاروں افراد اور بڑی مقدار میں تجارتی سامان کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ اس بارڈر کی بندش سے نہ صرف مقامی معیشت متاثر ہوتی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
علاقہ مکینوں اور تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بارڈر کو جلد از جلد کھولا جائے تاکہ معمولات زندگی بحال ہو سکیں، تاہم سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر حکام کسی بھی قسم کی جلد بازی سے گریز کر رہے ہیں۔

