Skip to main contentSkip to footer

سوئٹزرلینڈ کا وہ نایاب جوتا جس نے تاریخ کا سب سے بڑا راز فاش کر دیا

Swiss Rare Shoe Discovery

سوئٹزرلینڈ کا وہ نایاب جوتا جس نے تاریخ کا سب سے بڑا راز فاش کر دیا



دنیا کی تاریخ عجیب و غریب واقعات سے بھری پڑی ہے۔ بعض اوقات ایک چھوٹی سی چیز بھی صدیوں تک پوشیدہ رہنے والے راز کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ ایسی ہی ایک حیران کن کہانی ایک ایسے نایاب جوتے کی ہے جس کا تعلق سوئٹزرلینڈ کی ایک پراسرار کمپنی سے بتایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی جوتے نے ایک حکمران کی شناخت ممکن بنا کر تاریخ کے ایک بڑے راز سے پردہ اٹھایا۔

یہ کہانی نہ صرف دولت، طاقت اور شاہانہ طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ وقت کے طوفان کے باوجود بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو مٹتی نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔


 ایک پراسرار سوئس کمپنی

کہا جاتا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایک ایسی کمپنی موجود تھی جو عام لوگوں کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے صرف مخصوص اور انتہائی بااثر خاندانوں کے لیے جوتے تیار کرتی تھی۔ اس کمپنی کی ممبر شپ حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے صرف ایک ہزار امیر ترین اور بااثر خاندانوں کو ہی اس کمپنی کا رکن بننے کی اجازت تھی۔

یہ کمپنی نہ صرف اپنی محدود ممبر شپ بلکہ اپنے جوتوں کے غیر معمولی معیار کی وجہ سے بھی مشہور تھی۔ ہر جوڑا خاص آرڈر پر تیار کیا جاتا تھا اور اس کی تیاری میں دنیا کے مختلف خطوں سے لائے گئے نایاب اور مہنگے مواد استعمال کیے جاتے تھے۔

ان جوتوں کی تیاری کے بارے میں کئی حیران کن دعوے کیے جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے تلوے نیوزی لینڈ کی ایک خاص نسل کی گایوں کے چمڑے سے تیار کیے جاتے تھے۔ ان گایوں کے بارے میں روایت تھی کہ ان کے سینگ نیلے اور کھال سنہری رنگ کی ہوتی تھی، جس کی وجہ سے ان کا چمڑا انتہائی مضبوط اور نایاب سمجھا جاتا تھا۔

جوتوں کے اگلے حصے یعنی ٹو کے لیے برازیل کے مگرمچھوں کی جلد استعمال کی جاتی تھی۔ یہ چمڑا اپنی مضبوطی اور خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔

اسی طرح جوتوں کے پچھلے حصے میں افریقہ کے سیاہ ہاتھیوں کے کانوں کے چمڑے کو استعمال کیا جاتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس چمڑے میں ایک خاص لچک اور مضبوطی ہوتی ہے جو جوتے کو طویل عرصے تک بہترین حالت میں رکھتی ہے۔

جوتوں کے اندرونی حصے کو نرم اور آرام دہ بنانے کے لیے ہرن کے چمڑے کا استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ چمڑا اتنا نرم ہوتا تھا کہ اسے پہننے والے کو مخملی احساس ہوتا تھا اور لمبے وقت تک پہننے کے باوجود پاؤں میں تھکن محسوس نہیں ہوتی تھی۔

ان جوتوں کی سلائی بھی عام نہیں ہوتی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی سلائی میں وہی خاص دھاگہ استعمال کیا جاتا تھا جو بلٹ پروف جیکٹس بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یہ جوتے انتہائی مضبوط ہوتے تھے اور برسوں تک خراب نہیں ہوتے تھے۔

کمپنی کا دعویٰ تھا کہ ان جوتوں کی پالش پچاس سال تک نہیں اترتی۔ یہاں تک کہ اگر انہیں مٹی میں دفن کر دیا جائے تو بھی سو سال تک ان کی چمک برقرار رہ سکتی ہے۔ یہ دعوے سننے میں یقیناً حیران کن لگتے ہیں، لیکن اسی وجہ سے یہ جوتے دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔

افغانستان کے شاہی خاندان سے تعلق


کہا جاتا ہے کہ افغانستان کے آخری بادشاہ، ظاہر شاہ، بھی اس کمپنی کے ممبر تھے۔ ظاہر شاہ افغانستان کے ان حکمرانوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے کئی دہائیوں تک ملک پر حکومت کی۔ان کی شاہانہ زندگی میں دنیا کی بہترین چیزیں شامل تھیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اس نایاب کمپنی کے جوتے استعمال کرتے تھے۔

بعد میں جب ان کے کزن سردار محمد داؤد خان نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے نہ صرف حکومت بلکہ بادشاہ کی بہت سی ذاتی چیزیں بھی اپنے اختیار میں لے لیں۔ انہی چیزوں میں اس سوئس کمپنی کی ممبر شپ بھی شامل تھی۔

سردار محمد داؤد خان افغانستان کی تاریخ کی ایک اہم شخصیت تھے۔ انہوں نے ملک میں کئی اصلاحات کیں اور جدیدیت کی طرف قدم بڑھانے کی کوشش کی۔ ان کے دورِ حکومت میں افغانستان نے کئی سیاسی اور معاشی تبدیلیاں دیکھیں۔ کہا جاتا ہے کہ داؤد خان اپنی زندگی بھر اسی کمپنی کے تیار کردہ جوتے پہنتے رہے۔ ان جوتوں کی مضبوطی اور خوبصورتی کی وجہ سے وہ انہیں بہت پسند کرتے تھے۔

اپریل 1978 میں افغانستان میں ایک بڑا سیاسی انقلاب آیا جسے ثور انقلاب کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے دوران کمیونسٹ نواز فوجی افسران نے حکومت کے خلاف بغاوت کر دی۔فوج نے صدارتی محل پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے دوران شدید لڑائی ہوئی اور آخر کار سردار داؤد خان کو ان کے خاندان کے کئی افراد کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ افغانستان کی تاریخ کے سب سے خونریز واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انتقام کی شدت اس قدر تھی کہ مقتولین کو مناسب تدفین بھی نصیب نہ ہو سکی۔


اس واقعے کے بعد کئی دہائیوں تک کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سردار داؤد خان اور ان کے خاندان کے افراد کی باقیات کہاں دفن کی گئی ہیں۔وقت گزرتا گیا اور یہ واقعہ تاریخ کے صفحات میں ایک ادھورا راز بن کر رہ گیا۔ کئی مورخین اور محققین اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے رہے کہ ان کی قبریں کہاں ہیں۔ 26 جون 2008 کو کابل کے قریب ایک فوجی اڈے کی تعمیر کے دوران اچانک ایک حیران کن دریافت ہوئی۔ تعمیراتی کام کے دوران زمین سے دو اجتماعی قبریں برآمد ہوئیں۔

جب ان قبروں کی کھدائی کی گئی تو وہاں کئی انسانی ڈھانچے ملے۔ وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ تر ہڈیاں مٹی میں تبدیل ہو چکی تھیں اور لباس بھی بوسیدہ ہو چکے تھے۔لیکن ایک ڈھانچے کے پاؤں میں موجود سیاہ رنگ کے بوٹ حیران کن طور پر محفوظ تھے۔

ان بوٹوں کو دیکھ کر وہاں موجود لوگوں کو حیرت ہوئی۔ کئی دہائیوں تک زمین میں دفن رہنے کے باوجود ان کی چمک برقرار تھی۔ان کے بکل سنہری تھے اور جوتوں کے تلوے پر مگرمچھ کی جلد کا واضح نشان موجود تھا۔ یہ نشان ان جوتوں کو عام جوتوں سے بالکل مختلف بناتا تھا۔اسی خاص ڈیزائن اور نایاب مواد کی وجہ سے ماہرین کو یقین ہوا کہ یہ وہی جوتے ہیں جو سوئٹزرلینڈ کی اس خاص کمپنی میں تیار کیے جاتے تھے۔

جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کمپنی کی ممبر شپ رکھنے والے چند افراد میں سردار محمد داؤد خان بھی شامل تھے۔اسی بنیاد پر ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ باقیات غالباً انہی کی ہیں۔ یوں کئی دہائیوں بعد ایک حکمران کی شناخت ممکن ہو سکی۔


یہ واقعہ تاریخ کے ان نادر واقعات میں شمار کیا جاتا ہے جہاں کسی حکمران کی شناخت اس کے چہرے یا ڈی این اے کے بجائے اس کے جوتوں کی بدولت ممکن ہوئی۔یہ کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان کی دولت اور طاقت وقتی ہوتی ہے، لیکن تاریخ میں کبھی کبھی ایک معمولی سی چیز بھی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی ہے۔یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ اقتدار، دولت اور شان و شوکت ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔ جو چیز باقی رہتی ہے وہ تاریخ کے وہ واقعات ہوتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے سبق بن جاتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے ان نایاب جوتوں کی کہانی بھی اسی طرح تاریخ کے صفحات میں ایک دلچسپ اور حیران کن داستان کے طور پر محفوظ ہو چکی ہے۔آج بھی جب اس واقعے کا ذکر کیا جاتا ہے تو لوگ حیرت سے سوچنے لگتے ہیں کہ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی چیز بھی تاریخ کے سب سے بڑے راز کو بے نقاب کر سکتی ہے۔

حکومت پر قرضوں کے بوجھ میں 7000 ارب روپے اضافہ

 
Next Post
چیٹ جی پی ٹی نے5.4ورژن متعارف کرادیا
Previous Post
عمرہ زائرین کیلئے ای گیٹس سروس کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا