Skip to main contentSkip to footer

پاسدارانِ انقلاب کی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مشروط اجازت 

Strait of Hormuz Conditional Passage

پاسدارانِ انقلاب کی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مشروط اجازت

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت صرف اس ملک کو دی جائے گی کہ جو امریکہ اور اسرائیل کے سفیر کو ملک بدر کرے گا۔ایران کی سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان کو شئیر کیا گیا ہے

جس میں ایرانِ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ کوئی بھی عرب یا یورپی ملک جو اپنے ملک سے اسرائیل اور امریکہ کے سفیروں کو نکال دے گا، انھیں کل سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مکمل اختیار اور آزادی حاصل ہوگی

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل ڈالنے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے ایسا کوئی اقدام کیا جس سے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل رک جائے تو اسے انتہائی شدید کارروائی کا سامنا کرنا پڑا گا۔واضح رہے کہ دنیا کے تقریبا 20 فیصد تیل کی ترسیل اس آبنائے سے ہوتی ہے اور جنگ کی وجہ سے سمندری آمدورفت میں شدید کمی آئی ہے

جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ایرانی پاسدارنِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ہم کریں گے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو تہران خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دے گا۔

سوئٹزرلینڈ کا وہ نایاب جوتا جس نے تاریخ کا سب سے بڑا راز فاش کر دیا

Next Post
ایران نے عرب ممالک پر 2000ڈرونز اور 500میزائل داغے
Previous Post
نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ، کراچی اور لاہور وائٹس کی کامیابی