Site icon bnnwatch.com

سپرم وہیلز رابطے کیلئے انسانوں جیسی بولی کا استعمال کرتی ہیں

سپرم وہیلز رابطے کیلئے انسانوں جیسی بولی کا استعمال کرتی ہیں

حالیہ سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں رہنے والی سپرم وہیل مچھلیاں بالکل انسانوں کی طرح حروفِ تہجی اور الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے سے گپ شپ کرتی ہیں۔برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق نئی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ سپرم وہیل مچھلیاں مخصوص کلک آوازوں کے ذریعے بات کرتی ہیں جنہیں سائنسی اصطلاح میں کوڈا کہا جاتا ہے۔

اس تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ آوازیں محض شور نہیں ہیں، بلکہ ان میں انسانوں کی طرح والز اور پیچیدہ صوتی ڈھانچے موجود ہیں۔یہ مچھلیاں اپنی آوازوں کے اتار چڑھا کو بالکل اسی طرح بدلتی ہیں جیسے مینڈرین (چینی) یا لاطینی زبان بولنے والے انسان الفاظ کے معنی بدلنے کیلئے لہجہ بدلتے ہیں۔

پروجیکٹ سی ای ٹی آئی کے محققین نے جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ان آوازوں کا تجزیہ کیا ہے۔انہوں نے پایا کہ اگر وہیل کی آوازوں کے درمیان موجود وقفوں کو ختم کیا جائے تو ان کا پیٹرن انسانی گفتگو سے حیرت انگیز مشابہت رکھتا ہے۔محقیقین کے مطابق سپرم وہیلز سمندر کی سطح کے قریب آ کر ایک دوسرے سے گفتگو کرتی ہیں، جبکہ گہرائی میں شکار کے دوران زیادہ ترخاموش رہتی ہیں۔ ان کے سماجی رویوں میں تعاون، بچوں کی دیکھ بھال اور اجتماعی سرگرمیوں کے شواہد بھی ملے ہیں۔

تحقیق کے سربراہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے ماہر لسانیات گاشپر بیگوش نے کہا کہ سپرم وہیلز کی آوازیں بہت زیادہ پیچیدہ ہیں۔ان کے مطابق انہوں نے جن جانوروں کا پہلے مطالعہ کیا ہے، جیسے طوطے اور ہاتھی، ان میں بھی اتنی پیچیدگی نہیں دیکھی گئی۔ان کا کہنا ہے کہ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ انسانوں اور وہیلز کی زندگیوں میں کئی حیرت انگیز مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔

یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں 40 افراد کی جان لے گئی

 

تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے اب وہیلز کی آوازوں کو بہتر انداز میں سمجھنے کی کوشش جاری ہے اور آنے والے چند سالوں میں ان کے کم از کم بیس مختلف اشاروں کو سمجھنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ تحقیق اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو مستقبل میں انسان اور وہیلز کے درمیان ابتدائی سطح پر مواصلاتی رابطہ ممکن ہو سکتا ہے

تاہم مکمل زبان کو سمجھنا اب بھی ایک طویل سائنسی چیلنج ہے۔

Exit mobile version