پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو نے کہا ہے کہ اگر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ناک آئوٹ مرحلے میں ان کا مقابلہ لیونل میسی کی ارجنٹائن سے ہوتا ہے تو یہ ایک شاندار چیز ہوگی۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ازبکستان کے خلاف پانچ صفر کی جیت میں دو گول کرنے والے 41 سالہ رونالڈو نے میچ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ٹیم کی کامیابی اور اگلے مرحلے میں رسائی ہے۔
جب ان کا لیونل میسی کی ٹیم کے امکان کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم اس سوال کا کیا جواب دوں، لیکن یہ شاندار چیز ہو گی۔اس سے قبل کھیلے گئے میچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آج سب سے اہم چیز جیت حاصل کرنا، اگلے مرحلے میں پہنچنا اور آنے والے چیلنجز کے لئے تیار رہنا تھا۔ ہمارا بنیادی ہدف گروپ مرحلہ عبور کرنا تھا اور ہم نے یہ حاصل کر لیا ہے۔ازبکستان کے خلاف دو گول کر کے رونالڈو مردوں کے ورلڈ کپ کی تاریخ میں چھ مختلف ورلڈ کپ مقابلوں میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
پرتگال کی ٹیم گروپ کے ابتدائی میچ میں کانگو ڈی آر کے خلاف ڈرا میچ کے بعد تنقید کی زد میں تھی اور مقامی میڈیا میں رونالڈو کو ابتدائی ٹیم میں شامل رکھنے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔اس حوالے سے رونالڈو نے پچھلے ہفتے کو مشکل قرار دیا تھا۔عوامی رائے تمام کھلاڑیوں خصوصا میرے اور کوچ روبرٹو مارٹینز کے خلاف بہت سخت تھی
لیکن مجھے اس کی پروا نہیں۔ میں 23 برس سے پیشہ ورانہ فٹبال کھیل رہا ہوں۔ جب چیزیں اچھی ہوں تو کہا جاتا ہے کہ کرسٹیانو بہترین کھیل رہا ہے اور جب نتائج اچھے نہ ہوں تو کہا جاتا ہے کہ وہ بوڑھا ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیم نے میدان میں بہترین جواب دیا اور ثابت کیا کہ وہ تنقید کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔رونالڈو نے میسی، کائلین ایمباپے اور ارلنگ ہالینڈ کے درمیان گولڈن بوٹ کی دوڑ سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم چیز ٹیم ہے۔
فٹبال ورلڈ کپ میں اپنی ہی ٹیم کیخلاف گولز کی تعداد7ہوگئی
ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات ٹیم اور اس کے ساتھ متحد رہنا ہے۔ ہم باہر سے آنے والی باتوں کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ان کے مطابق انہیں معلوم ہے کہ وہ نہیں جیتتے تو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پرتگال اپنا آخری گروپ میچ ہفتہ کوکو میامی گارڈنز میں کولمبیا کے خلاف کھیلے گا اور اس کی کوشش ہو گی کہ وہ اپنی گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرے۔
فیفا ورلڈکپ، 48ٹیموں میں واحد خاتون ڈاکٹر نے تاریخ رقم کردی
