اسرائیل نے 2 سال بعد رفح کراسنگ کھول دی
اسرائیل نے پیدل آمد و رفت کے لیے 2 سال بعد رفح کراسنگ کھول دی۔
اسرائیل نے دو سال بعد غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کو پیدل چلنے والوں کے لیے کھول دیا ہے، گزشتہ روز 50 فلسطینیوں کی غزہ سے آمد و رفت ہوئی، جب کہ غیر ملکی صحافیوں کو رفح کراسنگ سے غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
رفح کراسنگ کے کھلنے سے یومیہ 150 فلسطینیوں کو غزہ سے جانے اور پچاس فلسطینیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت ہوگی، اسرائیل نے مئی 2024 میں رفح کراسنگ پر قبضہ کر کے اسے آمد و رفت کے لیے بند کر دیا تھا۔
اسرائیل کی جانب سے رفح بارڈر کھولے جانے کے بعد ہزاروں بیمار اور زخمی فلسطینی فوری طبی امداد کے لیے غزہ سے باہر جانے کے منتظر ہیں، رات گئے خان یونس میں ہلال احمر کے اسپتال میں زیر علاج فلسطینی اور ان کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی منتقلی کے انتظار میں رہے، لیکن اسرائیل افواج کی سخت اسکریننگ اور چیکنگ کےعمل سے مریضوں کی منتقلی میں دشواری کا سامنا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جب رفح بارڈر بند تھا تو ایک ہزار 268 افراد غزہ میں طبی منتقلی کے انتظار میں جاں بحق ہوئے، اگر مزید فلسطینیوں کو فوری طور پر باہر جانے کی اجازت نہ دی گئی تو تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

