وائرل جاپانی بندر “پنچ” کون ہے؟ پنچ کے بارے میں مکمل تفصیلات
جاپان کے ایک چڑیا گھر میں موجود ننھا بندر “پنچ” آج کل سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔ صرف چھ ماہ کی عمر میں یہ جاپانی مکاک نہ صرف انٹرنیٹ صارفین کے دل جیت رہا ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے امید، حوصلے اور محبت کی علامت بھی بن گیا ہے۔ اس معصوم بندر کی کہانی جذبات، تنہائی، جدوجہد اور دوبارہ جینے کے حوصلے سے بھرپور ہے۔
یہ ننھا جاپانی مکاک جاپان کے شہر چیبا کے چڑیا گھر میں پیدا ہوا۔ ابتدا میں وہ مکمل طور پر صحت مند تھا، مگر جلد ہی اس کی زندگی میں ایک بڑا صدمہ آ گیا جب اس کی اپنی ماں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق بعض اوقات بندروں میں ایسا رویہ دیکھنے میں آتا ہے، مگر اس ننھے بچے کے لیے یہ صورتحال نہایت تکلیف دہ ثابت ہوئی۔
ماں کی عدم توجہ اور مسترد کیے جانے کے بعد پنچ کی صحت متاثر ہونے لگی۔ وہ کمزور اور اداس دکھائی دینے لگا۔ ایسے میں چڑیا گھر کے عملے نے فوری طور پر اسے اپنی خصوصی نگہداشت میں لے لیا۔ زو کیپرز نے نہ صرف اس کی جسمانی صحت کا خیال رکھا بلکہ اس کی جذباتی کیفیت کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔
اسی دوران عملے نے پنچ کو ایک نرم اور ملائم اورنگوٹان کے کھلونے کی صورت میں ایک متبادل “سہارا” فراہم کیا۔ یہ کھلونا دراصل اس کے لیے ماں کی کمی کو کسی حد تک پورا کرنے کی ایک کوشش تھی۔ حیران کن طور پر پنچ نے اس کھلونے کو فوراً قبول کر لیا۔ وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا، گود میں اٹھاتا اور اکثر اسے گلے لگائے رکھتا۔ یہ مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کے صارفین اس ننھے بندر کے گرویدہ ہو گئے۔
انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پنچ اپنے اورنگوٹان کھلونے کے ساتھ بیٹھا ہے جبکہ دیگر بالغ بندر اس کے قریب آتے ہیں۔ بعض ویڈیوز میں دوسرے بندر اسے دھکا دیتے یا اس کے قریب سے گزرتے نظر آتے ہیں، مگر پنچ اپنے کھلونے کو مضبوطی سے تھامے رہتا ہے۔ یہ مناظر دیکھ کر لاکھوں افراد جذباتی ہو گئے۔
اس حوالے سے چڑیا گھر کے عملے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا:
“وہ بالغ بندر جس نے پنچ کو گھسیٹا، غالباً اس بندر کی ماں ہے جس کے ساتھ پنچ بات چیت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔”
اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پنچ اب بھی اپنے جھنڈ میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور دیگر بندروں سے تعلق قائم کرنے کے عمل سے گزر رہا ہے۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ پنچ آہستہ آہستہ اپنے ماحول سے ہم آہنگ ہو رہا ہے۔ پوسٹ میں لکھا گیا:
“وہ دوسرے بندروں سے صاف صفائی (گرومنگ) کرواتا ہے، ان کے ساتھ کھیلتا ہے، کبھی کبھار ڈانٹ بھی سنتا ہے اور روزانہ نئے تجربات سے گزر رہا ہے۔ وہ مسلسل سیکھ رہا ہے کہ جھنڈ کے اندر ایک بندر کی حیثیت سے کیسے زندگی گزارنی ہے۔”
ماہرین کے مطابق بندروں کی سماجی زندگی میں گروپ کے اندر تعلقات بنانا نہایت اہم ہوتا ہے۔ ایک بچے کے لیے ماں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف خوراک بلکہ تحفظ اور سماجی رویوں کی تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔ ایسے میں پنچ کا مسترد کیا جانا اس کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا، مگر عملے کی توجہ اور متبادل جذباتی سہارا اسے دوبارہ زندگی کی طرف لے آیا۔
سوشل میڈیا صارفین پنچ کی معصوم حرکات کو دیکھ کر جذباتی تبصرے کر رہے ہیں۔ کوئی اسے “دنیا کا سب سے پیارا بندر” قرار دے رہا ہے تو کوئی اس کی جدوجہد کو انسانی زندگی سے جوڑ رہا ہے۔ بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ پنچ کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ محبت اور توجہ ہر جاندار کی بنیادی ضرورت ہے۔
اگرچہ پنچ کی معصومیت اور اس کا اپنے کھلونے سے لگاؤ یقیناً دل موہ لینے والا ہے، لیکن اس کہانی کا اصل پیغام اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ یہ کہانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ زندگی میں مشکلات اور تنہائی کے باوجود امید باقی رہتی ہے۔ ایک چھوٹا سا کھلونا بھی کسی کے لیے جذباتی سہارا بن سکتا ہے، اور تھوڑی سی توجہ کسی کی زندگی بدل سکتی ہے۔
چڑیا گھر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد پنچ کو مکمل طور پر اس کے جھنڈ کا حصہ بنانا ہے تاکہ وہ قدرتی ماحول میں سماجی زندگی گزار سکے۔ اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے، مگر اب تک کی پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔ پنچ روزانہ نئے تجربات سے گزر رہا ہے اور آہستہ آہستہ اپنے اردگرد کے بندروں کے ساتھ میل جول بڑھا رہا ہے۔
پنچ کی کہانی صرف ایک وائرل ویڈیو تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ دنیا بھر میں لوگوں کے لیے ایک سبق بن گئی ہے۔ اس ننھے بندر نے ثابت کیا ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، حوصلہ اور محبت انسان (اور جانور) دونوں کو دوبارہ کھڑا ہونے کی طاقت دیتے ہیں۔
آج پنچ صرف ایک بندر نہیں رہا، بلکہ وہ امید، برداشت اور محبت کی عالمی علامت بن چکا ہے۔ اس کی آنکھوں میں جھلکتی معصومیت اور اپنے نرم کھلونے کو گلے لگانے کا انداز دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ہر جاندار محبت کا حق دار ہے — اور ہر دل میں محبت پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
یوں ایک چھوٹے سے جاپانی مکاک نے انٹرنیٹ پر بڑا مقام حاصل کر لیا ہے، اور لاکھوں دلوں میں گھر کر لیا ہے۔ پنچ کی یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی سب سے بڑے اسباق ہمیں سب سے چھوٹی مخلوق سے ملتے ہیں۔
