Site icon bnnwatch.com

عوام ہار گئے، وی آئی پی کلچر پھر جیت گیا

PSL 2026 VIP Entery

عوام ہار گئے، وی آئی پی کلچر پھر جیت گیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) جو کبھی ملکی کرکٹ کی بحالی کی علامت سمجھی جاتی تھی، آج ایک نئے تنازعے کی زد میں آ چکی ہے۔ وہی پی ایس ایل جسے بڑی محنت، جدوجہد اور خطرات کے باوجود نجم سیٹھی، جاوید آفریدی، شاہد آفریدی اور ڈیرن سیمی جیسے نامور افراد دبئی سے پاکستان واپس لانے میں کامیاب ہوئے تھے، آج اسی لیگ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگنا شروع ہو گیا ہے۔

پی ایس ایل کا آغاز ایسے وقت میں ہوا تھا جب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ تقریباً ختم ہو چکی تھی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے گریزاں تھیں۔ اس مشکل وقت میں دبئی اور شارجہ میں لیگ کا انعقاد کیا گیا، مگر اس کا اصل مقصد پاکستان میں کرکٹ کی بحالی تھا۔ کئی برسوں کی مسلسل کوششوں کے بعد بالآخر غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان آنا شروع کیا اور پی ایس ایل کے میچز کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی جیسے شہروں میں کھیلے جانے لگے۔

تاہم اب موجودہ حالات نے شائقین کرکٹ کو مایوس کر دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی حالیہ پالیسیوں اور فیصلوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جس طرح قومی ٹیم کی کارکردگی مسلسل تنزلی کا شکار ہے، اسی طرح پی ایس ایل کے انتظامات بھی اب کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ موجودہ بورڈ لیگ کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔

گزشتہ روز کھیلے گئے ایک اہم میچ کے دوران پیش آنے والے واقعات نے اس بحث کو مزید ہوا دے دی۔ اطلاعات کے مطابق عام شائقین کو اسٹیڈیم کے قریب آنے تک کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ دوسری جانب وی آئی پی شخصیات کو خصوصی پروٹوکول کے تحت اسٹیڈیم میں داخل کیا گیا اور انہوں نے میچ کا لطف اٹھایا۔ یہ صورتحال نہ صرف غیر منصفانہ محسوس ہوئی بلکہ اس نے شائقین میں شدید غم و غصہ بھی پیدا کیا۔

اگر سیکیورٹی یا کسی اور وجہ سے پابندی عائد کی گئی تھی تو یہ پابندی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے تھی۔ قانون کی بالادستی کا تقاضا یہی ہے کہ عام شہری اور وی آئی پی کے درمیان کوئی فرق نہ رکھا جائے۔ لیکن جو منظر سامنے آیا، اس نے واضح طور پر اس اصول کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ معروف اسپورٹس صحافی عبدالغفار، جو ڈان نیوز سے وابستہ ہیں، انہیں بھی اسٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایک صحافی کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام تک درست معلومات پہنچائے، لیکن اگر اسے ہی رسائی نہ دی جائے تو شفافیت کیسے برقرار رکھی جا سکتی ہے؟ عبدالغفار جیسے تجربہ کار صحافی کو روکنا اس بات کی علامت ہے کہ انتظامیہ کچھ چھپانا چاہتی ہے یا پھر ان کے فیصلے غیر منظم ہیں۔

عوام کے مطابق ایک مخصوص گیٹ کے ذریعے وی آئی پی افراد کو اسٹیڈیم میں داخل کیا جا رہا تھا، جبکہ عام شہریوں اور میڈیا نمائندگان کو باہر ہی روک دیا گیا۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ یہ پی ایس ایل جیسے بڑے ایونٹ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ شائقین کرکٹ نے سوال اٹھایا کہ اگر عام عوام کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت نہیں تھی تو پھر وی آئی پی افراد کو کیوں اجازت دی گئی؟ کیا قانون صرف عام لوگوں کے لیے ہے؟ کیا پی ایس ایل اب صرف اشرافیہ کا کھیل بن کر رہ گیا ہے؟

کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف شائقین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ اسپانسرز اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ پی ایس ایل صرف ایک کرکٹ لیگ نہیں بلکہ پاکستان کی نرم قوت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ پاکستان ایک محفوظ اور کھیلوں کے لیے موزوں ملک ہے۔

اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی دوبارہ پاکستان آنے سے ہچکچائیں گے اور لیگ ایک بار پھر بیرون ملک منتقل ہو سکتی ہے، جو کہ ایک بہت بڑا دھچکہ ہوگا۔ اس کے علاوہ مقامی شائقین بھی لیگ سے بددل ہو سکتے ہیں، جس کا اثر براہ راست پی ایس ایل کی مقبولیت اور آمدنی پر پڑے گا۔

یہ وقت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور شفافیت کو یقینی بنائے۔ اگر کوئی سیکیورٹی خدشات ہیں تو ان کا حل تلاش کیا جائے، لیکن اس کے نام پر امتیازی سلوک کسی صورت قابل قبول نہیں۔ پی ایس ایل کو کامیاب بنانے میں عوام کا سب سے بڑا کردار ہے، اور اگر انہیں ہی نظر انداز کیا جائے گا تو لیگ کی بنیادیں کمزور ہو جائیں گی۔

تل ابیب میں ہزاروں کوّوں کی پرواز کی کیا حقیقت ہے؟ کیا یہ قیامت کی نشانی ہے؟

Exit mobile version