Site icon bnnwatch.com

پشاور کے تاجروں نے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز2013 میں مجوزہ ترامیم مستردکردیں

Peshawar Traders Reject Trade Rules Amendments

پشاور کے تاجروں نے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز2013 میں مجوزہ ترامیم مستردکردیں

ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013 میں مجوزہ ترامیم اور ڈسٹرکٹ چیمبرز کے خاتمے کے خلاف ملک کے دیگرشہروں کی طرح خیبر پختونخوا کی تاجر برادری سراپا احتجاج بن گئی، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ ترمیمی بل کو معاشی خودکشی اور چھوٹے تاجروں کے استحصال کے مترادف قرار دیتے ہوئے تنظیم تاجران اور پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرزاینڈسمال انڈسٹریزنے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے،

تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ “ڈسٹرکٹ” کے لفظ کو “سٹی” سے بدلنے کی کوشش دور دراز علاقوں کے تاجروں اور خواتین چیمبرز کے وجود کو مٹانے کی سازش ہے،صدر تنظیم تاجران خیبرپختونخوا ملک مہر الٰہی، صدر پشاور چیمبر شکیل احمد خان صراف، سینئر نائب صدر حاجی طلاء محمد، نائب ملک زوہیب عارف اور ترجمان تنظیم تاجران شہزاد احمد صدیقی نے مشترکہ بیان میں مجوزہ بل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ترمیم زمینی حقائق کے برعکس ہے جس کا مقصد ضلعی سطح پر قائم تاجروں، صنعتکاروں اور چھوٹے کاروباری افراد کی موثر نمائندگی کو ختم کرنا ہے،

انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ وائز چیمبرز کے خاتمے سے پشاور سمیت صوبے بھر کے دور دراز اضلاع کے تاجروں کی آواز دب جائے گی اور انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے بڑے شہروں کے چیمبرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا، جس سے نہ صرف نمائندگی کا توازن بگڑے گا بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی مفلوج ہو کر رہ جائیں گی،رہنماؤں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک بھر میں خواتین کے 30 سے زائد اور مرد و خواتین کے مجموعی طور پر 80 سے زائد ڈسٹرکٹ چیمبرز قائم ہوئے ہیں

جو اپنی مدد آپ کے تحت معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس بل کی منظوری سے 130 کے قریب ڈسٹرکٹ چیمبرز کا لائسنس خود بخود ختم ہو جائے گا جو کہ برسوں کی محنت پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ایک طرف ایم کیو ایم اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا راگ الاپتی ہے اور دوسری طرف ڈسٹرکٹ چیمبرز کو ختم کر کے تمام اختیارات مخصوص شہروں تک محدود کرنا چاہتی ہے

جو کہ ان کے اپنے ویژن کے بھی خلاف ہے،تاجر رہنماؤں نے وفاقی حکومت اور قائمہ کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ اس متنازع بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے، بصورت دیگر ملک بھر کی بزنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر شدید احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی کیونکہ یہ صرف کراچی کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کی معیشت اور چھوٹے تاجروں کے بقا کا مسئلہ ہے۔

جمعرات 19 مارچ کو شوال کا چاند نظر آنے کا امکان نہیں،رویت ہلال

Exit mobile version