پشاور میں سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید الطاف اور ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) پشاور کے چیف کمشنر محمد تقی قریشی کے درمیان چیمبر ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں ٹیکس نظام سے متعلق مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران آڈٹ کے نظام میں بہتری، انکم ٹیکس، ایگزمینشن، فاٹا/پاٹا استثنیٰ سرٹیفکیٹس کے اجرا میں تاخیر اور ڈیجیٹل انوائسنگ کے مسائل کو فوری حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
ٹیکس دہندگان کے مسائل کے حل کے لیے ایڈوائزری کمیٹی کی بحالی اور سرحد چیمبر و ویمن چیمبر آف کامرس میں خصوصی سہولت ڈیسک قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔
صدر جنید الطاف نے ٹیکس دہندگان کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نظام کو آسان بنایا جائے اور نئے افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے پاک افغان سرحد کی بندش اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے کاروباری سرگرمیوں پر پڑنے والے منفی اثرات کا بھی ذکر کیا۔جنید الطاف نے خیبرپختونخوا کی معاشی ترقی کیلئے وژن 2026-30ء کے تحت جامع اقتصادی روڈ میپ تیار کرنے کا اعلان کیا
اور صوبے کیلئے سپیشل اکنامک ریلیف پیکیج کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں اضاخیل ڈرائی پورٹ پر گاڑیوں کی کلیئرنس میں تاخیر اور دیگر مسائل بھی اٹھائے گئے، جن کی وجہ سے درآمد و برآمد سے وابستہ افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔چیمبر کے نمائندوں نے ایف بی آر پر زور دیا کہ کاروبار مخالف اقدامات سے گریز کیا جائے اور نئی پالیسیوں کے نفاذ سے پہلے تاجروں سے مشاورت کی جائے۔
چیف کمشنر محمد تقی قریشی نے تاجر برادری کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ٹیکس دہندگان معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ایف بی آر انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً 15 لاکھ افراد کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے چاہیے
مگر صرف ساڑھے تین لاکھ افراد نے گوشوارے جمع کرائے۔ اسی طرح سیلز ٹیکس میں بھی مطلوبہ تعداد کے مقابلے میں بہت کم افراد رجسٹرڈ اور فعال ہیں۔چیف کمشنر نے موقع پر ہی افسران کو ہدایت کی کہ تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سرحد چیمبر اور آر ٹی او پشاور کے درمیان ایڈوائزری کمیٹی جلد فعال کی جائے گی اور چیمبر ہاؤس میں سہولت ڈیسک قائم کیا جائے گا۔

