Site icon bnnwatch.com

تنظیم تاجران اور پشاور چیمبر کا کاروباری پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ

تنظیم تاجران اور پشاور چیمبر کا کاروباری پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ

تنظیم تاجران خیبرپختونخوا اور پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز نے کاروباری اوقات کار میں محض ایک گھنٹے کی نرمی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومت سے ملک بھر میں کاروباری پابندیوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے

صدر تنظیم تاجران خیبرپختونخوا ملک مہر الٰہی ، صدر پشاور چیمبر شکیل احمد خان صراف اور دیگر عہدیداروں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں تاجر برادری مزید پابندیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی، دکانداروں کی سرمایہ کاری کی صلاحیت جواب دے چکی ہے، ایسے حالات میں کاروباری سرگرمیوں کو محدود کرنا معیشت کو مزید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے،اگرحکومت یہ سمجھتی ہے کہ کاروباری مراکز جلد بند کرنے سے پیٹرول کی بچت ہوگی تو یہ محض خام خیالی ہے

گرمیوں کے موسم میں خریداری کا اصل وقت شام سات بجے سے رات گیارہ بجے تک ہوتا ہے، کاروبار جلد بند کرنے سے نہ صرف تاجروں بلکہ صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اخراجات میں کمی لائی جائے

بڑی بڑی سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندی ، صدر، وزیراعظم، وزرا اعلیٰ اور گورنر ہائوسز میں غیر ضروری ، پرتعیش اخراجات ختم اور تمام سرکاری دفاتر میں ایئرکنڈیشنرز کے استعمال کو محدود کیا جائے تاکہ توانائی کی بچت ممکن ہو ، تاجر برادری شام سات بجے سے رات گیارہ بجے تک بجلی کے پیک آورز میں سب سے مہنگی بجلی خریدتی ہے تاجروں کو توانائی کے زیادہ استعمال کا ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مفت بجلی، گیس اور پیٹرول کی مراعات ختم کی جائیں

جبکہ بجلی چوری کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائی جائے، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں پاکستان پر لاگو نہیں کی جا سکتیں کیونکہ وہاں کے تاجر خوشحال ہیں جبکہ پاکستان کا تاجر مسلسل بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے، موجودہ حالات میں معیشت کو سہارا دینے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے، شادی ہالوں اور مارکیز کے حوالے سے تاجر رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے اوقات کار رات گیارہ بجے تک بڑھائے جائیں

اکثر تقریبات میں مہمان کھانا کھانے میں مصروف ہوتے ہیں کہ مقررہ وقت ختم ہونے پر ہالوں کی روشنیاں بند کر دی جاتی ہیں،تاجر رہنمائوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور ایسے حالات میں معیشت کو متحرک رکھنے کے لیے دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ کاروباری سرگرمیوں کو مزید محدود کرنے کی، فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور عوام و تاجروں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ معاشی سرگرمیوں میں بہتری آ سکے۔

Exit mobile version