وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسہیل آفریدی نے کہاہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران محدود وسائل کے باوجود ہماری حکومت نے عوامی خدمت، شفافیت، کفایت شعاری، گڈ گورننس اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا۔ اسی وژن کے تسلسل میں بجٹ پیش کیا جا رہا ہے۔
جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی میں بجٹ تقریری کے دوران انہوں نے کہاکہ عالمی معاشی اور سیاسی چیلنجز کے باوجود یہ بجٹ حکومت خیبر پختونخوا کے عوام دوست وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مرکز عوامی فلاح، سماجی تحفظ اور پائیدار ترقی ہے۔ اس بجٹ میں کمزور اور متوسط طبقے کی معاونت، معیاری خدمات کی فراہمی، پسماندہ اضلاع کی ترقی، آبی وسائل کے تحفظ، گرین اکانومی اور ڈیجیٹل خیبر پختونخوا کے فروغ کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ ترقی کے ثمرات ہر شہری تک پہنچ سکیں۔ ان شاء اللہ یہ بجٹ صوبے کو معاشی استحکام، خود انحصاری اور بہتر طرزِ حکمرانی کی جانب مزید مضبوطی سے لے کر جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ سال 2013 سے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبر پختونخوا نے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی جانب ایک تاریخی سفر طے کیا ہے۔ 8 فروری 2024 کو صوبے کے غیور عوام نے ایک بار پھر عمران خان کے وڑن پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہمیں تاریخی مینڈیٹ دیا۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی قیادت میں صوبے نے نہ صرف معاشی چیلنجز کا مقابلہ کیا بلکہ مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور گڈ گورننس کے نئے معیار بھی قائم کیے۔ ہماری حکومت نے ڈیجیٹلائزیشن، ایـگورننس، بروقت عوامی شکایات کے ازالے اور ادارہ جاتی احتساب کو مزید مؤثر بنایا ہے۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم، میرٹ کی بالادستی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ذریعے حکومت نے عوامی خدمت کو ترجیح دی ہے۔ ہماری ترجیح صرف معاشی بہتری نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جو ہر شہری کے لیے ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنائے۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ محصولات کے شعبے میں خیبر پختونخوا نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ حکومتِ خیبر پختونخوا نے مالی سال 26ـ2025 کے پہلے 10 ماہ میں 102 ارب روپے کے صوبائی محصولات جمع کیے ہیں جس میں ٹیکس محصولات 69.7 ارب اور نان ٹیکس محصولات 32.3 ارب جمع ہو چکے ہیں۔ جس میں سب سے نمایاں خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے 43.698 ارب روپے کے محصولات ہیں۔ اگر اسی شرح سے باقی 2 ماہ کی بھی محصولات کا اندازہ لگا لیا جائے تو قوی امکان ہے کہ صوبہ مقرر شدہ 129 ارب کا ہدف باآسانی حاصل کر سکے گا جو کہ صوبے کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے
سی طرح نان ٹیکس ریونیو بھی بڑھ کر 32.293 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ کامیابی صوبے کے مؤثر مالیاتی نظم و ضبط کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت نے اسلامی مالیاتی نظام کے فروغ اور شرعی اصولوں کے مطابق مالی خدمات تک رسائی بڑھانے کے لیے دو تکافل کمپنیوں، ”جنرل تکافل” اور ”فیملی تکافل” کے قیام کا آغاز کیا ہے۔ یہ اقدام صوبے میں رسک پروٹیکشن اور بچت کی اسلامی سہولیات کا ایک منظم ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرے گا۔
پاکستانی فری لانسرز نے نیا تاریخی عالمی ریکارڈ قائم کردیا
موجودہ مالی سال میں ان کمپنیوں کے قیام کے لیے ضروری فزیبلٹی اور رجسٹریشن کے مراحل مکمل کیے گئے ہیں۔ اسی طرح محکمہ خزانہ نے موجودہ مالی سال میں سرکاری محکموں کے لیے ڈیجیٹل ورک اسپیس متعارف کرایا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری امور مکمل طور پر پیپر لیس ہو گئے ہیں۔ اس اقدام سے دفتری کارروائیوں میں تیزی، شفافیت اور افادیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہ اصلاحات جدید ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس کی طرف اہم پیش رفت ہیں اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 26ـ2025 کے لیے کلائمیٹ اور جینڈر بجٹ ٹیگنگ کا ایک جامع اور ادارہ جاتی نظام متعارف کرایا ہے، جو شفافیت اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔ عمران خان صاحب کے وڑن کے مطابق مالی سال 26ـ2025 کے بجٹ میں مجموعی اخراجاتِ جاریہ کا 7 فیصد کلائمیٹ سے متعلق اقدامات کے لیے جبکہ 9 فیصد جینڈر بیسڈ اخراجات کے لیے مختص کیا گیا۔ یہ رقم ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے، قدرتی آفات سے نمٹنے، لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ، صحت کی بہتر سہولیات اور خواتین کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے۔
ا سی طرح محکمہ خزانہ نے موجودہ مالی سال میں 7952 نئی آسامیوں کی تخلیق کی ہے، جس کی مالیاتی لاگت 10.561 ارب روپے ہے۔ اس سے صوبے میں سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اپنی حکومت کی کارکردگی بتاتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہاکہ رواں مالی سال میں اسکولز میں فرنیچر فراہمی کے لیے 7 ارب روپے جاری کیے گئے جس سے 23,076 سکولوں میں فرنیچر کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ضم شدہ اضلاع میں ماڈل سکولوں کے قیام، کیڈٹ کالجز اور خواندگی پروگراموں پر کام کیا گیا۔ 1,100 سکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا جبکہ 100 نئے پرائمری سکول تعمیر کیے گئے۔ اس کے علاوہ 63 پرائمری، 58 مڈل اور 73 متاثرہ سکولوں کی بحالی پر بھی کام کیا گیا ہے۔ ضم شدہ اضلاع کے 10,000 طلبہ و طالبات میں 9,000 روپے فی طالب علم کے حساب سے وظیفہ تقسیم کیا گیا۔ اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے 10,000 سے زائد پرائمری اساتذہ کی بھرتی کی منظوری دی گئی
جبکہ 12,500 ایجوکیشن انٹرنز کی شمولیت کی منظوری بھی دی گئی۔ ایـٹرانسفر سسٹم اور سکول سیلف رپورٹنگ پورٹل جیسی جدید ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کروائی گئیں، جس سے تعلیمی نظام میں شفافیت، کارکردگی اور مؤثر نگرانی کو فروغ ملا۔ انہوں نے کہاکہ سال 2025 میں بارشوں اور سیلاب سے پورا صوبہ بالخصوص شمالی علاقہ جات بری طرح متاثر ہوئے۔
قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کے ساتھ ساتھ، مال مویشی، نجی و سرکاری املاک اور کاروباری مراکز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت نے بروقت اقدامات کر کے نہ صرف مزید نقصان کے خدشہ کو کم کیا بلکہ ہر شعبہ زندگی میں ہونے والے نقصان کے ازالہ کے لیے بھی تاریخی عملی اقدامات کیے۔ یہ تمام اقدامات صوبائی حکومت نے اپنے محدود وسائل سے کیے۔ اس میں وفاقی حکومت یا امدادی اداروں کی جانب سے کسی بھی قسم کا تعاون شامل نہیں تھا جو ایک غریب صوبہ کی خودداری، احساسِ ذمہ داری اور بہترین طرزِ حکومت کی ایک عملی مثال ہے۔
انہوں نے کہاکہ رواں مالی سال کے دوران بارشوں اور سیلاب میں فوت شدہ افراد کے لواحقین اور زخمیوں کی مالی اعانت کے لیے 29.4 ارب روپے جاری کیے گئے۔ مویشیوں اور املاک بشمول گھروں، دکانوں اور فصلوں کے نقصانات کے ازالہ کے لیے 5.10 ارب روپے جاری کیے گئے۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے وفاق کے تعاون کے بغیر، اپنی مدد آپ کے تحت تاریخی اور مثالی اقدامات کیے اور عارضی طور پر بے گھر افراد کی رہائش کے لیے کیمپوں کے انتظام، اشیائے خورونوش اور سفری و دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے 18.11 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہاکہ سماجی بہبود کے شعبہ کی بات کریں تو گزشتہ مالی سال کے دوران صوبائی حکومت نے رمضان پیکیج کے تحت 10 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے جس سے 10 ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے 10 لاکھ 16 ہزار 3 سو 94 خاندان مستفید ہوئے۔
اسی طرح رواں مالی سال کے دوران بھی صوبائی حکومت نے ماہِ رمضان المبارک میں صوبہ کے غریب اور نادار لوگوں کی مالی اعانت کے جذبہ کے تحت 13.570 ارب روپے فراہم کیے جس سے فی خاندان 12 ہزار 5 سو روپے کے حساب سے 10 لاکھ 34 ہزار 3 سو 73 خاندان مستفید ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ ہر سال کی طرح اس سال بھی امن و امان کا قیام حکومتِ خیبر پختونخوا کی اہم ترجیح رہا۔ اسی مقصد کے تحت رواں مالی سال میں امن و امان کیلئے 164.522 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے مؤثر استعمال سے اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں،
پولیس کی آپریشنل صلاحیت بڑھانے کیلئے جدید اسلحہ، سنائپر رائفلز، تھرمل ویپن سائٹس، بلٹ پروف گاڑیاں، اے پی سیز اور موٹر سائیکلیں فراہم کی گئیں۔ بندوبستی اور ضم شدہ اضلاع میں تھرمل بائنوکلرز ، ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹم، اور کمیونیکیشن لاجسٹکس کی فراہمی سے سیکیورٹی نظام مزید مضبوط بنایا گیا۔ * پشاور سیف سٹی منصوبہ مکمل اور فعال کر دیا گیا، جبکہ ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں اس پر کام جاری ہے۔ پولیس کے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے رواں مالی سال میں شہداء پیکیج میں 10 فیصد کا اضافہ کیا۔
اس سال اب تک 151 شہداء اور 155 زخمیوں کے لیے مجموعی طور پر 1.63 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا مضبوط انفراسٹرکچر کو معاشی ترقی، روزگار اور خوشحالی کی بنیاد سمجھتی ہے۔ مالی سال 26ـ2025 میں 53.186 ارب کے ترقیاتی بجٹ سے صوبے بھر میں سڑکوں اور رابطہ نظام کی بہتری کے لیے نمایاں پیش رفت کی گئی
صوبائی روڈ نیٹ ورک کی بہتری کے لیے 595 منصوبوں پر کام جاری رہاا پریل 2026 ء تک 94 منصوبے مکمل کیے گئے صوبے بھر میں ریکارڈ 1218 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی مکمل کی گئی۔ حکومتِ خیبر پختونخوا بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کو معاشرے کا اہم ستون سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہماری حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی وڑن کے تحت حکومت نے صوبے بھر میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش اور بحالی پر 99.40 ملین روپے خرچ کیے۔
اقلیتی برادریوں کے لیے ویلفیئر پیکیج کی مد میں مختص فنڈز سے 16.88 ملین روپے براہِ راست عبادت گاہوں کے ضروری سامان کی خریداری پر استعمال کیے گئے۔ بین المذاہب ہم آہنگی اور کمیونٹی انگیجمنٹ پروگراموں پر 15.55 ملین روپے خرچ کیے گئے۔ ضم شدہ اضلاع سمیت صوبے بھر کے اقلیتی طلباء کیلئے سکالرشپ پروگرام کی مد میں 40 ملین روپے فراہم کیے گئے۔
انہوں نے کہاکہ مالی سال 2025ـ26 کے دوران اصلاحات کے علم کو مزید وسعت دی گئی ہے۔ اراضی ریکارڈ لائزیشن کیلئے GIS ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید وسعت دی گئی۔مختلف اضلاع میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور انتقالات سسٹم کو مزید مؤثر بنایا گیا۔3,403 موضع جات میں ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن مکمل کی گئی جبکہ مزید موضع جات میں کام جاری ہے۔
اراضی ریکارڈ سے متعلق خدمات کی فراہمی میں شفافیت اور سہولت کے لیے جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز متعارف کرائے گئے۔دستک ایپ کے ذریعے شہریوں کو گھروں کی دہلیز پر ریونیو خدمات کی فراہمی کا آغاز کیا گیاسہیل آفریدی نے کہاکہ ہم نے اداروں کو مستحکم کیا، مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دیا، معیشت کو مشکلات سے نکالا اور ترقی کے لیے ضروری صلاحیت پیدا کی۔
یہ وہ مرحلہ تھا جس میں ہم نے صوبے کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی۔ آج، جب یہ بنیادیں مضبوط ہو چکی ہیں، تو ہماری توجہ محض تعمیر سے آگے بڑھ کر عوامی خوشحالی پر مرکوز ہے۔

