تحریر: منصور صدیقی
mahz.mms@gmail.com
دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کی طرف تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان اس بات کا غماز ہے کہ مستقبل کا انحصار صاف، سستی اور پائیدار توانائی پر ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک شمسی توانائی کو فروغ دینے کے لیے مختلف مراعات اور سہولیات فراہم کر رہے ہیں تاکہ عوام اور صنعت دونوں اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ مگر ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا میں دیگر ممالک جہاں سولر انرجی کو سپورٹ کرتے ہوئے مسلسل مراعات دیتے ہیں،
وہیں ہماری حکومت اس کے برعکس فیصلے کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پہلے انہی منصوبوں کو پروموٹ کرتے ہوئے عوام کو ترغیبات دی جاتی ہیں لیکن جب لوگ ان پر اعتماد کرتے ہوئے بھاری سرمایہ کاری کر لیتے ہیں تو اچانک قوانین تبدیل کر دیے جاتے ہیں، جو نہ صرف مایوسی کا باعث بنتے ہیں بلکہ اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
ابتدائی طور پر پاکستان میں شمسی توانائی کو محض ایک تجرباتی یا محدود پیمانے کی ٹیکنالوجی سمجھا جاتا تھا۔ 2015 میں نیٹ میٹرنگ پالیسی کے نفاذ نے اس شعبے میں ایک نئی جان ڈال دی، جس کے تحت صارفین کو اضافی بجلی گرڈ میں شامل کرنے اور اس کے بدلے میں کریڈٹ حاصل کرنے کی سہولت دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدی ڈیوٹی میں چھوٹ اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے آسان فنانسنگ اسکیموں نے اس ٹیکنالوجی کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
2020 سے 2024 کے درمیان بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور عالمی سطح پر سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی نے پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال کو بامِ عروج تک پہنچا دیا۔ اس دور میں نیٹ میٹرنگ کی 1:1 سہولت، ٹیکس میں چھوٹ، اور کم لاگت نے عام صارفین اور صنعتوں کو شمسی نظام نصب کرنے پر آمادہ کیا۔ نتیجتاً ملک میں شمسی توانائی کی پیداوار چند میگاواٹ سے بڑھ کر کئی گیگاواٹ تک جا پہنچی۔
تاہم 2025 کے بعد صورتحال میں ایک واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کو درپیش مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے نیٹ میٹرنگ کے بجائے ”نیٹ بلنگ” کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ اس نئے نظام کے تحت صارفین سے اضافی بجلی کم قیمت پر خریدی جاتی ہے جبکہ انہیں بجلی مہنگے نرخوں پر فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سولر آلات پر سیلز ٹیکس کا نفاذ، فکسڈ چارجز، اور سسٹم کی گنجائش پر پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔
اپریل 2026 میں حکومت کی جانب سے مزید سخت اقدامات سامنے آئے، جن کے تحت اضافی بجلی کو ”زیرو یونٹس” قرار دینے اور ایکسپورٹ ایم ڈی آئی چیک نافذ کرنے جیسے فیصلے شامل ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں صارفین کو اضافی بجلی پیدا کرنے پر کسی قسم کا مالی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، جو کہ شمسی توانائی کے فروغ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
ایک اور اہم اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے لیے صارفین نے جو اسمارٹ میٹرز لاکھوں روپے ادا کر کے واپڈا کے ذریعے نصب کروائے تھے، ان کی لاگت اور سرمایہ کاری کا حساب کون دے گا؟ یہ سوال نہ صرف صارفین کے اعتماد بلکہ پالیسی سازی کی شفافیت پر بھی بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ان پالیسی تبدیلیوں کے اثرات عام صارفین پر براہِ راست مرتب ہوں گے۔ پہلے جہاں صارفین شمسی نظام کے ذریعے اپنی بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی لا سکتے تھے، اب وہی نظام کم منافع بخش ہو گیا ہے۔ نئے صارفین کے لیے سرمایہ کاری کی واپسی (ROI) کا دورانیہ بڑھ جائے گا، جس سے شمسی توانائی کی کشش کم ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، دیہی اور متوسط طبقے کے صارفین کے لیے یہ ٹیکنالوجی دوبارہ مہنگی اور مشکل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب صنعتی اور کمرشل صارفین جو بڑی سطح پر شمسی توانائی استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے بھی یہ تبدیلیاں تشویشناک ہیں۔ اضافی بجلی پر مراعات کے خاتمے سے ان کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف ان کا رجحان کم ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے بلکہ ماحول دوست توانائی کے اہداف بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت سرمایہ کاری کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔ بار بار کی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرتی ہیں اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو متاثر کرتی ہیں۔ اگر حکومت کا مقصد قومی گرڈ کو مستحکم کرنا ہے تو اس کے لیے متوازن حکمت عملی اپنانا ضروری ہے، جس میں صارفین اور توانائی فراہم کرنے والے اداروں دونوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور بجلی کے نظام کے استحکام کے درمیان توازن قائم کرے۔ شمسی توانائی نہ صرف بجلی کے بحران کا حل پیش کرتی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ لہٰذا پالیسی سازی میں دور اندیشی، شفافیت اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اگر موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو خدشہ ہے پاکستان میں شمسی توانائی کی ترقی کی رفتار سست پڑ جائے گی جو کہ ایک پائیدار اور روشن مستقبل کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

