پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مطالبات کی منظوری نہ ملنے پر 27 مارچ سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما عبدالسمیع خان نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر کے صرف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا ہے جبکہ ڈیلرز کے مارجن کو نظر انداز کیا گیا۔ صدر پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سندھ، امیر خان محسود کا کہنا تھا کہ اگر ڈیلرز کے مارجن میں فوری اضافہ نہ کیا گیا تو 26 مارچ کی رات سے ہی سپلائی روک دی جائے گی کیونکہ ہم نقصان میں کاروبار جاری نہیں رکھ سکتے۔
دوستوں کو دبئی بلائیں، 3000 درہم کا فائدہ اٹھائیں
رہنما عبدالسمیع خان نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب حکومت سے صرف شرافت سے بات نہیں ہوگی بلکہ ڈیلرز مزاحمت کریں گے، پیٹرولیم لیوی اور قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام اور ڈیلرز دونوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
کاغذ سے پہلے قرآنِ کریم کن چیزوں پر لکھا جاتا تھا؟ قرآن میوزیم میں نمائش
پریس کانفرنس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل پر ‘کیپنگ’ لگا دی ہے جس کی وجہ سے ڈیلرز کو پیٹرول اور ڈیزل نہیں مل رہا اور پمپس ‘ڈرائی’ ہو کر بند ہو رہے ہیں۔ امیر خان محسود نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت جلد ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 50 روپے تک کا بڑا اضافہ کر سکتی ہے، جس سے بحران مزید سنگین ہونے کا خطرہ ہے۔ اعلان کے بعد شہریوں نے متبادل راستے کے طورپر گیلنز بھی پیٹرول سے بھروا لئے ہیں تاکہ قلت کے دوران کاروباری سرگرمیوں میں خلل پیدا نہ ہو۔

