ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک اور بڑے اضافے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ حکومتی فیصلے کی وجوہات جاننے کیلئے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ بظاہر یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ جب پاکستان کے پاس تقریباً 28 دن کا پیٹرولیم ذخیرہ موجود ہے اور پاکستانی جہازوں کو اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت بھی مل چکی ہے، تو پھر قیمتوں میں فوری اور نمایاں اضافہ کیوں کیا گیا؟
ذرائع کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ صرف موجودہ حالات کو دیکھ کر نہیں بلکہ مستقبل کے سنگین خدشات کے پیش نظر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب باقاعدہ جنگی صورتحال میں تبدیل ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے جنگ جاری رکھنے کے اعلان نے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ دفاعی و معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے دورانیے کے بارے میں کوئی واضح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
اسی دوران ایک اہم پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ تقریباً 40 ممالک نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کیلئے ایک ممکنہ اتحاد تشکیل دیا ہے۔ یہ پیش رفت بظاہر عالمی تجارت کے تحفظ کیلئے کی جا رہی ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس حساس سمندری راستے پر باقاعدہ عسکری تصادم شروع ہو جاتا ہے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہےاور کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اس وقت ملک کے پاس محدود مدت کیلئے پیٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ موجود ہے، لیکن اصل چیلنج آئندہ آنے والی سپلائی ہے۔ اگر جنگ کے باعث تیل بردار جہازوں کی آمد متاثر ہوتی ہے یا انشورنس اور فریٹ چارجز میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان کیلئے تیل کی درآمد نہ صرف مہنگی بلکہ مشکل بھی ہو سکتی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ دراصل اسی ممکنہ بحران کے پیش نظر ایک پیشگی اقدام ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں یا سپلائی مکمل طور پر متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لئے حکومت نے موجودہ قیمتوں میں اضافہ کر کے مستقبل کے جھٹکے کو کسی حد تک کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
معاشی ماہرین اس فیصلے کو “فاروَرڈ پرائسنگ” کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، جس میں حکومت مستقبل کے مہنگے درآمدی معاہدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے ہی قیمتیں ایڈجسٹ کر دیتی ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ یہ اقدام عوام کیلئے فوری طور پر بوجھ کا باعث بنتا ہے، لیکن طویل المدتی بحران سے بچاؤ کیلئے اسے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب روپے کی قدر میں مسلسل کمی بھی اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے۔ چونکہ پاکستان تیل کی درآمد ڈالر میں کرتا ہے، اس لئے روپے کی کمزوری براہ راست قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی شپنگ اخراجات، انشورنس پریمیم اور سکیورٹی رسک بھی بڑھ چکے ہیں، جو مجموعی طور پر تیل کی قیمت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ موجودہ ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ وقت کیلئے قیمتوں کو مستحکم رکھا جاتا تاکہ عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔ ٹرانسپورٹرز، صنعتکاروں اور عام صارفین نے خبردار کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ اشیائے خوردونوش، کرایوں اور پیداواری لاگت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ طول پکڑتی ہے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو مستقبل میں پاکستان کو توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کو متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے، جیسے دیگر ممالک سے تیل کی درآمد یا مقامی سطح پر توانائی کے متبادل منصوبوں کو تیز کرنا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اگرچہ موجودہ وقت میں پاکستان کے پاس محدود ذخیرہ اور جزوی سپلائی موجود ہے، لیکن عالمی حالات کی غیر یقینی صورتحال، جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات اور اہم تجارتی راستوں پر ممکنہ خطرات نے حکومت کو فوری اور سخت فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی صورتحال ہی اس بات کا تعین کرے گی کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا یا عوام کو کسی حد تک ریلیف مل سکے گا۔
تاہم دوسری جانب حکومت نے اپنے شاہانہ اخراجات میں اب تک کوئی کمی نہیں کی ہے اور شاہی پروٹوکولز میں روزانہ لاکھوں روپے کا ایندھن پھونکا جارہا ہے تاہم عوام سے قربانی دینے کی اپیلیں کی جارہی ہیں۔
شمسی توانائی پر حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی: عوام اور صنعت پر اثرات

