Skip to main contentSkip to footer

شجرکاری مہمات کے باوجود پاکستان ہر سال 11ہزار ہیکٹر جنگلات سے محروم

شجرکاری مہمات کے باوجود پاکستان ہر سال 11ہزار ہیکٹر جنگلات سے محروم

پاکستان میں شجرکاری پروگراموں اور بڑے پیمانے پر درخت لگانے کی مہمات کے باوجود ہر سال تقریبا 11 ہزار ہیکٹر جنگلات کا رقبہ ختم ہو رہا ہے جس سے ملک کو ماحولیاتی تحفظ کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔پاکستان اقتصادی جائزہ 26-2025 کے مطابق جنگلات کی مسلسل کٹائی ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے جو حیاتیاتی تنوع، آبی وسائل اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے مجموعی زمینی رقبے کا صرف 4.7 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے جس کے باعث ملک پہلے ہی جنگلاتی وسائل کی کمی کا شکار ہے۔اقتصادی جائزے کے مطابق جنگلات پر بڑھتا ہوا دبا کم جنگلاتی رقبے، زمین کے استعمال میں تیز رفتار تبدیلیوں، آبادی میں اضافے، دیہی غربت اور قدرتی وسائل پر انحصار کے باعث پیدا ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگلات کے سکڑتے ہوئے رقبے سے مٹی کا کٹا تیز ہوتا ہے، حیاتیاتی تنوع میں کمی آتی ہے اور سیلابوں و زمین کی خرابی کے خلاف قدرتی تحفظ کمزور پڑ جاتا ہے۔جنگلات آبی ذخائر کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ پانی کے بہا کو متوازن رکھنے اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی بحالی میں مدد دیتے ہیں۔اقتصادی جائزے میں موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی بگاڑ پر بڑھتی ہوئی تشویش کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ جنگلات کے تحفظ کو فوری ضرورت قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلابوں اور غیر معمولی موسمی حالات کے بعد جنگلات کا تحفظ پاکستان کی موسمیاتی موافقت کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔حکومت کی جانب سے تباہ شدہ قدرتی علاقوں کی بحالی اور درختوں کی تعداد بڑھانے کے لیے مختلف شجرکاری منصوبے شروع کیے گئے ہیں

پاکستان کی کوئی یونیورسٹی 350 بہترین جامعات میں جگہ نہ بناسکی

 

تاہم اقتصادی جائزہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ نئے درخت لگانے کے ساتھ ساتھ موجودہ جنگلات کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ماحولیاتی پائیداری کے ماہرین کے مطابق پرانے اور بالغ جنگلات کی حفاظت اکثر نئے لگائے جانے والے درختوں کے مقابلے میں زیادہ ماحولیاتی فوائد فراہم کرتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگلات کی کٹائی روکنے اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو محفوظ بنانے کے لیے بہتر انتظامی نظام، قانون پرموثر عملدرآمد اور مقامی آبادی کی زیادہ شمولیت ناگزیر ہے۔

اقتصادی جائزے کے مطابق معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھنا پاکستان کے طویل المدتی چیلنجز میں سے ایک ہے۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، موسمیاتی خطرات سے نمٹنے اور قدرتی وسائل کے مثر انتظام کے لیے جنگلات کے نقصان میں کمی لانے کی مسلسل کوششیں انتہائی اہم ہیں۔

اقتصادی جائزے کے مطابق شجرکاری مہمات جاری ہونے کے باوجود ہر سال تقریبا 11 ہزار ہیکٹر جنگلات کا ختم ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں اب بھی ایک بڑے اور پیچیدہ چیلنج کا سامنا ہے۔

Next Post
یورپ اور چین کی منڈیوں تک رسائی، پاکستانی مچھلی برآمدات میں نئی جان پڑ گئی
Previous Post
گدھے کے گوشت اور کھالوں کی چین کو برآمدات بڑھانے کی تیاری