Site icon bnnwatch.com

پاکستان میں ایبولا وائرس کا خطرہ انتہائی کم ہے، وزارت صحت

پاکستان میں ایبولا وائرس کا خطرہ انتہائی کم ہے، وزارت صحت

Cynthia Goldsmith This colorized transmission electron micrograph (TEM) revealed some of the ultrastructural morphology displayed by an Ebola virus virion. See PHIL 1181 for a black and white version of this image. What is Ebola hemorrhagic fever (Ebola HF)?Ebola hemorrhagic fever (Ebola HF) is a severe, often-fatal disease in humans and nonhuman primates (monkeys, gorillas, and chimpanzees) that has appeared sporadically since its initial recognition in 1976.The disease is caused by infection with Ebola virus, named after a river in the Democratic Republic of the Congo (formerly Zaire) in Africa, where it was first recognized. The virus is one of two members of a family of RNA viruses called the Filoviridae. There are four identified subtypes of Ebola virus. Three of the four have caused disease in humans: Ebola-Zaire, Ebola-Sudan, and Ebola-Ivory Coast. The fourth, Ebola-Reston, has caused disease in nonhuman primates, but not in humans.

وزارت صحت نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان میں ایبولا وائرس کے حوالے سے خطرات انتہائی کم ہیں۔ترجمان وزارت صحت نے کہا ہے کہ عالمی ادار صحت نے کانگو اور یوگنڈا میں حالیہ ایبولا وبا کی صورتحال کو عالمی ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے اور ایبولا وائرس کا موجودہ پھیلا صرف افریقی ممالک کانگو اور یوگنڈا تک محدود ہے۔

بیان کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا ہے کہ افریقا سے باہر کسی اور ملک میں ایبولا وائرس کا کوئی مریض رپورٹ نہیں ہوا۔ اسی طرح پاکستان یا ہمسایہ ممالک میں بھی کبھی ایبولا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔وزارت صحت کے مطابق متاثرہ افریقی ممالک سے محدود سفری روابط کے باعث پاکستان میں خطرہ انتہائی کم ہے۔ عالمی ادار صحت نے احتیاطی نگرانی بڑھانے کی ہدایت دی ہے تاہم کسی قسم کی سفری پابندیوں کی سفارش نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیر صحت مصطفی کمال نے وائرس کے حالیہ پھیلا کے پیش نظر ملک میں پیشگی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عوام کو وباں سے بچانے کے ل ئے موثر اقدامات کو یقینی بنایا جارہا ہے جبکہ وزارت صحت اور این آئی ایچ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ وزیر صحت کی ہدایت کے مطابق ایبولا سے بچا ئوکیلئے ملک بھر کے ائیرپورٹس پر نگرانی مزید موثر بنا دی گئی ہے ۔ انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جارہا ہے۔وزارت صحت نے تمام صوبوں اور بارڈر ہیلتھ سروسز کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کردی ہیں جبکہ وزارت صحت اور اس کے ماتحت ادارے کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔

ترجمان کے مطابق این آئی ایچ پاکستان ایبولا کی تشخیص کی صلاحیت رکھتا ہے اور قومی ادار صحت کو تمام ضروری انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔وزارت صحت نے افریقی ممالک کا سفر کرنے والے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ روانگی سے قبل متعلقہ ملک کی سفری اور طبی ہدایات ضرور دیکھیں۔ حکام کے مطابق پاکستان کے صحت ادارے عالمی ادار صحت کے تعاون سے صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں

گائے کا گوشت ذیابیطس کا باعث نہیں بنتا، نئی تحقیق

 
Exit mobile version