ملک کے ترقیاتی منصوبوں کا مجموعی بوجھ بڑھ کر 10.818 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محدود مالی وسائل کے باوجود سینکڑوں جاری منصوبوں کی تکمیل حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کے لیے تیار کردہ ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق وفاقی ترقیاتی پورٹ فولیو کی نامکمل منصوبوں کی تکمیل کے لیے درکار رقم، جسے ترقیاتی واجبات کہا جاتا ہے
مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 10.818 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ مالی سال کے آغاز میں موجود 8.2 کھرب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ بڑے انفراسٹرکچر اور آبی شعبے کے منصوبوں کی لاگت میں نظرثانی اور متوقع اضافہ ہے
جن میں دیامر بھاشا ڈیم، داسو پن بجلی منصوبہ، مہمند ڈیم اور تربیلا توسیعی منصوبہ شامل ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ترقیاتی واجبات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مالی سال 2013-14 میں یہ بوجھ 3.245 کھرب روپے تھا جو 2014-15 میں بڑھ کر 4.847 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔ 2017-18 میں یہ 5.812 کھرب روپے رہا اور بعد کے برسوں میں 5 کھرب روپے سے اوپر ہی رہا، تاہم حالیہ برسوں میں اس میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022-23 میں یہ بوجھ 7.879 کھرب روپے تھا، جو 2023-24 میں بڑھ کر 8.701 کھرب روپے اور 2024-25 میں 10.145 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ موجودہ سطح 10.818 کھرب روپے ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی ترقیاتی پورٹ فولیو میں اس وقت 786 منصوبے شامل ہیں جن کی مجموعی لاگت 15.865 کھرب روپے ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت بجٹ مختص کیے جانے کے باوجود ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے درکار رقم مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کل منصوبوں میں سے 197 بڑے منصوبے، جنہیں اہم ترین منصوبے قرار دیا گیا ہے، مجموعی واجباتی بوجھ کا 93 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں۔
ان میں بڑے ٹرانسپورٹ، آبی، توانائی اور اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کے منصوبے شامل ہیں۔ دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-26 کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 1 کھرب روپے ہے، جبکہ صرف جاری منصوبوں کے لیے مالی سال 2026-27 میں 3.377 کھرب روپے درکار ہوں گے
الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد بڑھانے کا امکان
جو مالی دبا کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تحت متعدد بڑے منصوبے مستقبل کے مالی تقاضوں کا بڑا حصہ ہیں، جن میں این-25، ایم-6 سکھر-حیدرآباد موٹروے، ایم-8، این-5 اور قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ شامل ہیں۔ اسی طرح آبی شعبے کے بڑے منصوبے بھی اس بوجھ میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم کا واجباتی بوجھ 1.097 کھرب روپے، داسو منصوبے کا 634.9 ارب روپے اور مہمند ڈیم کا 532.4 ارب روپے ہے۔
ریلوے کے شعبے میں بھی مستقبل کی مالی ضروریات نمایاں ہیں، جہاں مین لائن-1 منصوبہ 1.97 کھرب روپے کے واجباتی بوجھ کے ساتھ وفاقی ترقیاتی پورٹ فولیو کے سب سے بڑے منصوبوں میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بڑھتا ہوا واجباتی بوجھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جیسے جیسے نئے منصوبے شامل ہو رہے ہیں اور پرانے منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، تکمیل کے لیے درکار مجموعی رقم بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ آنے والے برسوں میں ترقیاتی منصوبہ سازوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا کہ وہ محدود مالی وسائل کے اندر رہتے ہوئے جاری منصوبوں اور نئی ترجیحات کے درمیان توازن قائم کریں۔

